خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 935 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 935

خطبات طاہر جلد ۱۲ 935 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء شاید ہی کسی کو نصیب ہو جس کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے۔اس لئے آپ کا آخری مقام آپ کے غلاموں سے اوجھل ہے اس لئے اس مقام کی جزا بھی اوجھل ہے۔یہ مضمون ہے جو یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے۔کوئی وجود اتنا بلند قامت ہو کہ اس کا اوپر کا سر نیچے دکھائی نہ دے۔ویسا ہی منظر قرآن کریم کھینچ رہا ہے کہ تمہارا رزق تو تمہاری کوششوں اور نیکیوں سے مناسبت رکھتا ہے اور اس کو ہم الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں۔تم جانتے ہو کہ کس قسم کے ایمان تمہارے ہیں، کس قسم کے اعمالِ صالحہ ہیں۔ان سے ملتی جلتی ایک جنت کی جزاء ہم تمہیں بتارہے ہیں کہ یہ ہوگی لیکن ایک میرا بندہ ایسا ہے جس سے تم ذکر سیکھ رہے ہو ، جس سے تم نور پار ہے ہو اس کے مقام کی انتہا تمہیں معلوم نہیں ہے۔اس لئے اس کی جزا کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔قَدْ اَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بہت ہی عظیم الشان، ایک بہت ہی حسین رزق مقرر فرما رکھا ہے۔پس ذکر کے گر اگر سیکھنے ہیں تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان عبارتوں سے گزشتہ خطبے میں میں نے واضح کیا تھا محمد رسول اللہ اللہ سے سیکھیں۔باقی سب محض تماشے ہیں، شعبدہ بازیاں ہیں ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔اسی مضمون پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اور اقتباسات میں آج آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آئندہ خطبے سے پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذکر کے متعلق جس حد تک میری طاقت میں ہے احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيٍّ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ محمد رسول اللہ اللہ کی حقیقت کو بھی ، آپ کی کنہ کو بھی اللہ کی مرضی کے سوا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا اور محض اس حد تک احاطہ کر سکتا ہے جس حد تک خدا اجازت دے اور رہنمائی فرمائے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے آقا اور مولی کے ساتھ ایک ایسا رشتہ تھا جس رشتے کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تم لوگ سمجھ نہیں سکتے کہ کیا رشتہ ہے۔اس لئے جب آپ کی آنکھ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ہم دیکھتے ہیں تو کچھ اور زیادہ سمجھ آنے لگتی ہے جو ہماری اپنی آنکھ ویسے دیکھنے سے معذور تھی اور قاصر تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اپنی شامت اعمال کو نہیں سوچا ان اعمال خیر کو جو پیغمبر میں اللہ سے ملے