خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 936
خطبات طاہر جلد ۱۲ تھے ترک کر دیا۔“ 936 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء رہے ہیں۔یعنی آج کل کے صوفیاء اور آج کل کے جو گوشہ نشین، فقیر بنے ہوئے ہیں ان کے متعلق فرما اپنی شامت اعمال کو نہیں سوچا ان اعمال خیر کو جو پیغمبرصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ملے تھے ترک کر دیا اور ان کی بجائے خود تراشیدہ دورد و وظائف داخل کر لئے اور چند قافیوں کا حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔“ یعنی قافی کا یہی مفہوم ہے کہ جتنی یاد ہو گئیں بس وہی کافی ہیں۔بلھے شاہ کی قافیوں پر وجد میں آجاتے ہیں اور یہی وجہ سے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت ہم کم لوگ جمع ہوتے ہیں۔لیکن جہاں اس قسم کے مجمع ہوں وہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔نیکیوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذتِ روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا۔“ کیسا پاکیزہ تجزیہ فرمایا ہے اس کو کہتے ہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جانا مضمون کو کس طرح کھول کر دکھا دیا ہے۔وہ لوگ جو وجد کرتے ہیں قوالیوں پر، وہ لوگ جو وجد کرتے ہیں قافیوں پر اور اسی قسم کے کلام پر جس کا ذکر مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر ان کو سچا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا تو جتنا وجد وہ ایک بندے کی باتوں پر کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ وجد وہ قرآن پر کرتے لیکن جب قرآن کے ذکر کرتے ہیں تو یہ لوگ یا تو ان مجلسوں میں جاتے نہیں یا ان مجلسوں میں ان کو نیند آنے لگتی ہے۔بے تعلق سے ہو جاتے ہیں اور سب سے عظیم نشانی ان کی اس بات کی یہ ہے کم رغبتی نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ ان کی رہتی ہے، باقی رہتی ہے۔پس آپ دیکھ لیں۔ان علاقوں کا دورہ کر لیں، جہاں بلھے شاہ یا باہو سلطان وغیرہ کے نغمے الاپے جاتے ہیں یا میاں محمد کے گیت پڑے جاتے ہیں۔وہ لوگ جو ان سے لذت اٹھا رہے ہوتے ہیں، وہ لوگ جو پڑھ کر سناتے ہیں۔ان کی عملی زندگی ان کی اس لذت کو جھٹلا رہی ہوتی ہے۔یا یوں کہنا چاہئے ان کی عملی زندگی اس لذت کی تعریف کر رہی ہوتی ہے۔اس کا تعین کر رہی