خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 934 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 934

خطبات طاہر جلد ۱۲ 934 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے طفیل اندھیروں سے نور کی طرف نکالے جاؤ گے۔پھر ایک ایمان نصیب ہوگا، پھر وہ اعمالِ صالحہ نصیب ہوں گے جو دائمی ہیں کیونکہ ان کی جزا بھی دائمی ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مددکی بغیر جو اعمال صالحہ ہیں ان کے دوام کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔جو ایمان کی۔ہے اس کے ہمیشہ قائم رکھنے کا کوئی وعدہ نہیں ہے۔مگر اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اپنا تعلق بڑھاؤ گے اور اس دامن سے وابستہ رہو گے، چمٹے رہو گے تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ تمہیں ایک نیا ایمان نصیب ہو گا، نئے اعمال صالح عطا کئے جائیں گے اور وہ ایسے ہیں جو دائمی ہیں۔خُلِدِينَ فِيهَا ابدا کیونکہ ان کا اجر دائی ہے اور دائی اجر دائمی اعمال کے نتیجے میں مستنبط ہوا کرتا ہے۔اگر چہ اعمال موت کی وجہ سے عارضی دکھائی دیتے ہیں مگر دائگی اعمال سے مراد وہ ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ابد کی زندگی بھی عطا کرتا تو یہ مومن جو نیک اعمال کے عادی ہو جاتے ہیں ابد تک کرتے چلے جاتے اور کبھی نہ تھکتے پس اللہ کا احسان ہے کہ موت نے ان کے دار العمل کو ایک موقع پر آ کرختم کر دیا اور لامتناہی دارالا جر میں وہ داخل کر دیئے جاتے ہیں۔قَدْ اَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا یہاں لَہ سے مراد ہر ایسا مومن بھی ہو سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اول طور پر اس میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم مراد ہیں کیونکہ جمع کے صیغے کے بعد اچا نک واحد کا صیغہ استعمال کرنا کوئی معنے رکھتا ہے۔یہ کہا تو جاسکتا ہے کہ ان لوگوں میں سے ہر فرد مراد ہے لیکن حقیقت میں ذِكْرًار سُولًا کی طرف یہ ضمیر اول طور پر جاتی ہے، یہ اشارہ اول طور پر اس طرف جاتا ہے۔فرمایا وہ ذکرِ رسول وہ جو مجسم ذکر ہے قَدْ أَحْسَنَ اللهُ لَهُ رِزْقًا تم لوگوں کو یہ جنت ملے گی جن میں ہمیشہ جن کے باغات کے نیچے پانی یعنی خدا کے پاکیزہ محبت کے پانی بہہ رہے ہوں گے۔لیکن محمد رسول اللہ کے لئے ایک اور بھی زیادہ احسن رزق مقرر فرمایا گیا ہے جس کی کنہ تک تم پہنچ نہیں سکتے۔اس لئے رِزْقًا کو نکرہ میں بیان فرما دیا۔نکرہ بعض موقع پر عرب اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ غیر معمولی شان بیان کرنی پیش نظر ہو یعنی ایک رزق کوئی ایسا رزق جسے تم جانتے نہیں ہوا اگر تم جانتے الرزق کہا جاتا۔جسے تم سمجھ نہیں سکتے اس کی کوئی مثال تم نے دیکھی نہیں کبھی۔ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ایک قسم کا رزق ہے تمہیں کچھ پتا نہیں وہ کیا چیز ہے۔اور چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اس دنیا میں مقام اور مرتبے کا حقیقی عرفان