خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 909
خطبات طاہر جلد ۱۲ 909 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء سلسلوں کے جو بانی مبانی تھے انہوں نے عبادت کے مقابل پر ذکر پیش کیا ہو گا لیکن عبادت کا چسکا پیدا کرنے کے لئے عبادت سے تعلق جوڑنے کے لئے ، انہوں نے ذکر کی بعض ایسی صورتیں پیش کیں جس سے عامۃ الناس کو ذکر میں دلچسپی پیدا ہو جائے اور اس کے نتیجے میں پھر عبادت میں بھی لذت آنی شروع ہو جائے مگر بعد میں آنے والوں نے ان باتوں کو بگاڑ لیا۔اب میں ان سلسلوں کا مختصراً ذکر کروں گا۔چشتیہ ایک مشہور سلسلہ ہے ان کے ہاں کلمہ شہادت پڑھتے وقت الا اللہ پر خاص زور دیا جاتا ہے اور اس کو وہ ضر میں لگانا کہتے ہیں لا اله الا الله الا اللہ۔اور یہ ضر میں لگاتے لگاتے وہ نفسیاتی طور پر اتنے مرعوب ہو جاتے ہیں کہ ان کو یوں لگتا ہے گویا ہر ضرب دل پر لگ رہی ہے سارا وجود کا اپنے لگ جاتا ہے اور جب آپ ان کو یہ کرتے دیکھیں تو واقعہ لگتا ہے کہ وہ ذکر سے پوری طرح مغلوب ہو چکے ہیں لیکن یہ ضربیں آپ کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں کبھی دکھائی نہیں دیں گی۔صحابہ کے اندر آپ کو یہ ضر میں دکھائی نہیں دیں گی اس لئے جو بھی رعب کا نظارہ ہے یہ ظاہری آنکھ کا ہے۔بگڑے ہوئے وقتوں میں سادہ لوح لوگ ان باتوں سے بہت مرعوب ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں دیکھو یہ ہے ذکر۔ذکر کر رہا تھا اور تڑپ اٹھا اور اس کا بدن لرز نے لگ گیا۔لیکن اگر اس ذکر کے سوا اسی طریق پر اور لفظ کہہ کرضر میں لگاؤ تو کیا اس سے بھی اسی قسم کا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ نفسیاتی کیفیات ہیں۔ذکر حقیقی اگر ملے گا تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گا۔وہاں بھی بدن کا رواں روواں کانپنے لگتا ہے اور ساری جلد متحرک ہو جاتی ہے۔اس ذکر سے جس کو آپ حضرت محمد رسول اللہ الیہ کی زبان سے سنیں گے اور اس کیفیت سے جو کیفیت آنحضور ے اور آپ کی غلامی میں آپ کے صحابہ کی ہوا کرتی تھی اس سے بھی دل لرز اٹھتے ہیں۔اب یہ جو لوگ ہیں یہ عموماً ان الفاظ کو دہراتے ہیں اور سر اور جسم کے بالائی حصے کو حرکت دیتے ہیں۔ان لوگوں میں شیعہ حضرات کثرت سے ہیں۔ان کی امتیازی خصوصیت سماع کا رواج ہے۔کہتے ہیں سماع یعنی گانوں کی صورت میں نغموں کی صورت میں اگر ذکر سنا جائے تو ایک وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ اس وجدانی کیفیت میں یہ لوگ تھک کر چور ہو جاتے ہیں۔عموماً صلى الله یہ لوگ رنگدار کپڑے پہنتے ہیں اور ان میں زیادہ تر بادامی رنگ کو ترجیح دی جاتی ہے۔