خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 908
خطبات طاہر جلد ۱۲ 908 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء نمازوں سے تائب ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ دن رات ذکر میں مصروف رہو نماز کی کوئی ضرورت نہیں یعنی حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ذکر ایجاد کرنے کی کوششیں کی گئیں اور وہی مضمون ان پر صادق آیا کہ ماں سے زیادہ چاہے پھیپھے کٹنی کہلائے۔“ ذکر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنا ہے جن کو اللہ نے مجسم ذکر قرار دیا ہے یعنی ایسا وجود ہے جس کے وجود میں اور ذکر میں فرق کوئی نہیں رہا۔ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں جس طرح لوہا مقناطیس بن جاتا ہے اسے لوہا بھی کہہ سکتے ہیں اور مقناطیس بھی کہہ سکتے ہیں۔لوہا جب آگ میں پڑ کر سرخ ہو جاتا ہے اور آگ کی حرارت کو اپنا لیتا ہے تو آگ اور لو ہے میں فرق کوئی نہیں رہتا۔پس قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم مجسم ذکر الہی تھے۔پس ذکر سیکھنا ہے تو آپ سے سیکھیں اور آپ نے قیام نماز پر اتناز ور دیا ہے کہ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہمیشہ نماز میں انکا رہتا تھا ایک نماز اور دوسری نماز کے درمیان ہر وقت دل میں یہ تمنا تھی کہ پھر میں دوبارہ مسجد میں با قاعدہ نماز کے لئے جاؤں اور اسی کیفیت میں راتوں کو اٹھتے تھے اور بعض دفعہ راتیں اس طرح جاگ کر گزاری ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حکماً آپ کو روکا کہ اتنی عبادت نہ کیا کرو کچھ کم کر لو اور بدلتے ہوئے وقتوں کے لحاظ سے کبھی کچھ زیادہ کر لی لیکن آرام کے لئے بھی وقت رکھو۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ کر اس کے حوالے کے بغیر جب بھی قرآن کریم پر غور ہوگا تو وہاں دھو کے کا امکان ہے جو بعض دفعہ واضح اور بعض دفعہ یقینی ہو جایا کرتا ہے پس میں جو مثالیں دوں گا اس سے یہ مراد نہیں کہ قرآن کریم نے یہ ذکر پیش کئے تھے۔قرآن کریم نے وہی ذکر پیش کئے ہیں جو ہمیں سنت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتے ہیں۔ان کے سوا ذکر کی کوئی حقیقت نہیں ہے مگر بعض ایسے بزرگ تھے جنہوں نے وقت کی ضرورت کے لحاظ سے بعض دفعہ ذکر کو عام لوگوں کے لئے آسان بنانے کے لئے کچھ ترکیبیں سوچیں۔میں سمجھتا ہوں ان پر حرف نہیں ہے وہ خود بزرگ تھے۔نیک لوگ تھے اگر سوچ میں ا سمجھ میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے لیکن ان کے ذہن میں غالباً ایسے نو مسلم تھے جن پر عبادت آسان نہیں تھی۔پس آغاز میں انہوں نے عبادت سے تو نہیں روکا ہو گا۔میں ہرگز یقین نہیں کر سکتا کہ ان