خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 891 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 891

خطبات طاہر جلد ۱۲ 891 خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ء نہیں کر سکے وغیرہ وغیرہ لیکن کھلم کھلاحق نہیں دیا اور جنہوں نے شرارت کی ان کی مذمت ضرور کی جو پاکستان کے ساتھ میں موازنہ کر رہا ہوں یہ کھول کے بتانا چاہتا ہوں شرافت کا عدم شرافت سے موازنہ نہیں ہے۔مگر شرارت کی آواز اتنی خوفناک ہو چکی ہے کہ شرافت ڈر گئی ہے اور دب گئی ہے۔یہاں تک کہ جب پاکستان میں مسجد میں جلائی گئیں تو کسی حکومت کے کارندے نے اوپر سے نیچے تک ایک نے بھی مذمت نہیں کی۔اب مسلمان ہو کر مسجد میں جلانے کی مذمت کی ان کو تو فیق نہیں مل رہی۔ہندوؤں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ شدت سے اس کی مذمت کریں۔بلکہ زور سے اس کوشش کو کچل دیں۔لیکن انہوں نے اتناز ور کیا ہے کہ اوپر سے نیچے تک عام انسانوں سے لے کر دانشوروں تک، لکھنے والوں سے لے کر شاعروں تک سب نے سارے ہندوستان نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں جھوٹے منہ سے کی ہے مگر کی تو ہے۔جھوٹے منہ کی بات تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ایک شاعر نے اس موضوع پر جو شعر لکھے ہندوستان کی مشہور اخباروں میں چھپے مجھے اس وقت ان کا نام یاد نہیں لیکن معروف لکھنے والے ہیں۔انہوں نے اس موضوع پر ایسی زبر دست نظم کہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ تم نے مسجد مٹائی ہے تم نے دنیا سے مندر سب مٹادیئے ہیں۔کیونکہ جب ایک عبادت کرنے والا جب ایک عبادت گاہ کو مٹاتا ہے تو عبادت گاہوں کے نام نہیں ہوا کرتے ہر عبادت گاہ مٹ جایا کرتی ہے۔بہت ہی خوبصورت کلام ہے۔لیکن پاکستان میں آپ کو اتنی احمدی مسجدوں کی بے حرمتی ہوئی ہے اتنی مسجد میں گرائی گئیں، مسمار کر دی گئیں۔کہیں سے مقابل پر یہ اٹھتی آواز دیکھائی نہیں دی۔پس میں جو تجزیہ کرتا ہوں انصاف پر کرتا ہوں۔ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ مسلمانوں میں سے شرافت اٹھ گئی ہے مگر جو شریر لوگ ہیں ان کی آواز کو انہوں نے غالب آنے دیا ہے اور قانون شریر کی حفاظت کر رہا ہے یہ مصیبت ہے۔ہندوستان میں ابھی قانون شریر کی حفاظت نہیں کر رہا۔اگر قانون ساتھ ہو جائے تو بہت بڑا نقصان مسلمانوں کو پہنچے۔پس اللہ تعالیٰ پاکستان کو بھی یہ توفیق عطا فرمائے اور دعا کریں کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ ہر خطرے سے محفوظ رکھے۔یعنی ہندوستان کی جماعت کو جو تبلیغ کر رہی ہے اور ان سے کوئی ایسی بے وقوفی بھی سرزد نہ ہو کہ دشمن کو جائز بہانہ ہاتھ آ جائے۔تبلیغ کے نتیجے میں کچھ تکلیف تو پہنچنی ہی پہنچنی ہے۔اگر تبلیغ کامیاب ہو گی تو ناممکن ہے کہ تکلیف نہ ہو لیکن جو اپنی بے وقوفی سے نقصان پہنچتا ہے وہ اس طرح ثواب کا مستحق تو نہیں بناتا۔