خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 892
خطبات طاہر جلد ۱۲ 892 خطبہ جمعہ ۱۹/ نومبر ۱۹۹۳ء جس طرح بغیر کسی بے وقوفی کے محض اللہ کی خاطر، اللہ کی ہدایت کے تابع چلتے ہوئے آپ کام کریں اور پھر نقصان پہنچے یہ دوسری قسم کے نقصان کا اللہ ذمہ دار ہو جایا کرتا ہے اور ایسے بندوں کا جو خالصۂ اللہ کے لئے کام کرتے ہیں اللہ ہر چیز میں کفیل ہو جایا کرتا ہے۔پس انشاء اللہ جب میں ذکر کا مضمون آگے بڑھاؤں گا اس میں آپ کو ایسی مثالیں نظر آئیں گی کہ جو بات میں کہہ رہا ہوں اس کو پوری قرآن اور حدیث کی تائید حاصل ہے۔آیات کریمہ جو میں نے تلاوت کی ہیں۔دوسورۃ الرعد سے آیت 29 اور 30 لی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللهِ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر پر طمانیت پا گئے۔یعنی تسکین مل گئی۔آلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَيِنُ القُلُوبُ خبر دار سنو۔اللہ ہی کے ذکر سے دل تسلی پایا کرتے ہیں۔الَّذِینَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔طوبی لھم ان کے لئے بہت ہی قابلِ رشک مقام ہے ایسا مقام جو ممتاز کر دیتا ہے ان کو دوسروں سے طوبی جن معنوں میں جس طرح بولا جاتا ہے اس سے بعض دفعہ یہ شبہ پڑتا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ خوشخبری لیکن خوشخبری کے مقام پر بولا جاتا ہے۔لیکن لفظ کا مطلب خوشخبری نہیں۔طاب کہتے ہیں ایک چیز نتھر کر او پر صاف ستھری ہو جائے۔تو ایسا مقام جو بالا ہو اور نظر کے نمایاں اور ممتاز ہو جائے اور قابلِ رشک ہو۔بہت پاکیزہ ہو۔اس مقام، اس مرتبے ، اس شان کو خوبی کہا جاتا ہے۔وَحُسْنُ مَابِ اور بہت ہی خوب صورت دلکش جگہ لوٹنے کی ہے۔پہلی بات ان آیات میں یہ قابلِ غور ہے کہ ان دونوں آیات کا تعلق کیا ہے۔جہاں تَطْمَةُ الْقُلُوبُ والی بات فرمائی گئی۔وہاں اس کے سوا کوئی جزا بیان نہیں ہوئی۔جہاں عَمِلُوا الصَّلِحَتِ کی بات ہوئی وہاں ایک جزا بیان ہوئی ہے۔جو لگتا ہے کہ بہت ہی شان دار جزاء ہے تو ان دونوں کا آپس میں تعلق کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ تَطْمَينُ قُلُوبُهُمْ کی جو آیت ہے۔دوسری آیت اس کے بدل کی حیثیت رکھتی ہے یعنی آمَنُوا دونوں میں مشترک ہے اور ذکر اللہ اور عمل صالح یہ دو الگ الگ چیزیں آمَنُوا کے تعلق سے بیان ہوئیں ہیں۔اس میں بہت سے مضامین بیان ہوئے ہیں۔