خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 890 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 890

خطبات طاہر جلد ۱۲ 890 خطبہ جمعہ ۱۹/ نومبر ۱۹۹۳ء مگر ان کی بھی برداشتیں آخر ایک حد رکھتی ہیں۔جن علاقوں میں اللہ کے فضل سے ہندوؤں میں سے مسلمان ہونے شروع ہوئے ہیں۔وہاں یقیناً طرز عمل بدلا ہے اور عوام الناس کی طرف سے بڑے سخت مطالبے ہوئے ہیں۔یہاں تک کہ ان کو گھروں سے نکال دیا جائے یا ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں ورنہ ہم حملے کریں گے، ان کے گھروں کو جلائیں گے۔ایسی مہمات وہاں بھی چلائی گئی ہیں مگر ایک فرق ہے کہ وہاں کی حکومت کے کارندے اب تک اس بات پر قائم ہیں کہ اگر شرارت کی پہل دوسروں کی طرف سے نہیں ہوئی یا انہوں نے تمہاری شرارت کا بدلہ شرارت سے نہیں دیا تو ہم ان پر ظلم نہیں ہونے دیں گے۔خدا کرے یہ جو بنیادی انسانی حق کی حفاظت کا خیال ہے یہ دنیا میں عام ہو جائے اور بجائے اس کے کہ ہم ہندوؤں کی مثالیں دیں۔اس سے ہزار گنا شاندار مثالیں مسلمانوں کی دیں کہ دیکھو پاکستان میں یہ ہو رہا ہے اور انڈونیشیا میں یہ ہورہا ہے۔اور ملائیشیا میں بھی ہورہا ہے اور عرب ممالک میں یہ ہو رہا ہے لیکن افسوس یہ کہ سارے نظر دوڑانے کے بعد اس قسم کے انصاف کی مثالیں سر دست تو ہندوستان سے ہی ہاتھ آئی ہیں۔پاکستان سے بھی ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ وہاں بدلوگوں نے بدیوں کے ذریعہ شریف لوگوں کی آواز کو دبا دیا ہے ورنہ میرا جائزہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کا مزاج منصفانہ ہے۔غیر منصف ہو بھی چکے ہوں تو ان کے دل کے اندر شرافت آخر اسلامی قدروں کے نتیجہ میں جو شرافت پیدا ہوتی ہے وہ گھٹ تو جاتی ہے مرنہیں جایا کرتی موجود ہے اور جہاں غیر کا خوف نہ ہو وہاں وہ شرافت دیکھاتے ہیں۔میں نے موازنہ کیا تھا اس سے صرف یہ مراد ہے کہ وہاں میں نے دیکھا ہے کہ ہندوستان کی حکومت کے کارندے غیر کے خوف کے باوجود یعنی اپنے ہم مذہب کے خوف کے باوجود انصاف پر قائم ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور ور نہ وہ ہندو قوم سے تعلق رکھنے والے افسران ہیں۔وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بدنام ہوں گے ہمیں لوگ کہیں گے کہ تم مسلمانوں کی سر پرستی کر رہے ہو تو اس لئے ہم ہاتھ کھینچتے ہیں۔لیکن اس حد تک ان کی اخلاقی حالت نہیں گری اور وہ کہتے ہیں کہ انصاف اگر ہے تو ہم اس کو سہارا دیں گے۔لیکن وسیع پیمانہ پر بعض دفعہ پالیسی کے لحاظ سے دب جاتے ہیں۔مثلاً اجودھیا میں جو واقعہ ہوا۔بابری مسجد کو جو شہید کیا گیا۔اس میں بھی آپ یہ فرق دیکھیں گے کہ حکومت نے کھلم کھلا یہ حق نہیں دیا کسی کو بہانے بنائے کہ ہم مجبور ہو گئے یہ ہو کر رہے ہیں اور وہ کرنا چاہتے تھے