خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 880
خطبات طاہر جلد ۱۲ کے افراد نہیں ہیں۔ 880 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ء پس یہ سارے نفس کے بہانے ہیں ۔ اب آپ یہ بتائیے کہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ سارے لوگ ذکر اللہ کرنے والے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تقتل کے بعد ذکر کا مضمون بیان فرمایا ہے۔ میں آئندہ خطبے میں انشاء اللہ تعالیٰ اس مضمون کو مزید واضح کروں گا۔ تقتل ہر ایسی چیز سے ضروری ہے جس کے ساتھ ذکر اللہ اکٹھا رہ ہی نہیں سکتا۔ یہ لوگ جن کی نظریں دنیا کی چمک دمک پر جاپڑیں ہوں اور دنیا کی چمک دمک کی مقید ہو چکی ہوں اس کی قیدی بن چکی ہوں۔ جن کے اندر ہر وقت یہ تمنا کروٹیں بدلے کہ موقع ملے تو ہم بھی ایسا کریں ۔ جب موقع ملے تو وہ ایسا کرتے ہیں ۔ لیکن ایسے لوگوں کی سوچیں ان کو اللہ کے ذکر کا موقع ہی نہیں دیا کرتیں۔ ان کی تمناؤں کے رخ بدل چکے ہوتے ہیں ۔ دنیا ان کی مطلوب ہو چکی ہوتی ہے اور یہ خیال کہ عذر سے وہ ایسی بے پر د مجالس میں شامل ہو کے آئیں اور ادھر بیٹھ کے ذکر الہی میں مصروف ہو جائیں ۔ یہ محض بچگانہ خیال ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نصیحت فرمائی ہے اس پر تفصیل سے عمل کریں۔ ہر اس چیز سے علیحدگی اختیار کر لیں جس چیز کے نتیجے میں آپ لازما ذکر الہی سے محروم ہو جائیں گے۔ اور یہ جو مضمون ہے یہ بہت وسیع ہے چند مثالیں میں نے آپ کو دیں ہیں نصیحت کے طور پر لجنہ کا فرض ہے کہ ان باتوں میں نگر ان رہے۔ اگر کوئی بلانے والی خود یہ کہہ کر نہیں آپ کو اٹھاتی کہ اب ہم ایسی حرکتوں میں ملوث ہونے والے ہیں یا ہو سکتا ہے کہ آپ کے دل پر چوٹ لگے تو قرآن کریم نے جو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تم خود اٹھ کے آجایا کرو۔ اس سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتیں۔ یہ ہے اصل معاشرے کا دباؤ۔ ڈنڈے مارنا نہیں ہے۔ ڈنڈے مارنے کے نتیجے میں نصیحت نہیں ہوا کرتی مگر معاشرہ اگر وہ طریق اختیار کرلے جن کی قرآن نے نصیحت فرمائی ہے۔ جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت سے ثابت باتیں ہیں تو نہی عن المنکر کا یہ بہترین انداز ہے اور یہ جو برائیاں بار بار اندر آتی ہیں بار بار دھکے کھا کر باہر چلی جائیں گی ۔ ان کو گھر کے ماحول کے اندر خوش آمدید کہنے والا کوئی نہیں ہو گا کیونکہ دوسری طرف سے یہ اثرات جو ہیں یہ بھی پوری طرح بیدار رہیں گے۔ پس یہ انسانی نفسیات سے تعلق رکھنے والی بات ہے کہ بعض برائیاں آپ نکالیں تو واپس آئیں گی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ معاشرے کی خرابیاں بار بار واپس آنے کی کوشش نہیں کریں گی۔ مگر