خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 879 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 879

خطبات طاہر جلد ۱۲ 879 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۹۳ء جب دل چاہنے لگ جائے تو اس کے ہو گئے جس کے اوپر دل آ گیا۔اب موقع ملنے کی بات ہے۔بہانہ ڈھونڈ کر مخفی طور پر چھپ کر کھائیں یا لوگوں کے سامنے کھا ئیں۔جہاں تک دل کی خواہش سے کھانے کا تعلق ہے وہ واقعہ تو ہو گیا۔اب سو رکھا نا منع ہے یہ مطلب تو نہیں کہ سوسائٹی میں منع ہے۔چھپ کے کھانا بھی تو اسی طرح منع ہے جس طرح باہر کھانا منع ہے۔تو اگر رسمیں بے ہودہ ہیں اور وہ دجالی رسمیں ہیں تو وہ چاہے آپ سب کے سامنے کریں چاہے چھپ کے کریں ان کی دجالیت تو ضرور اپناز ہر ظاہر کرے گی اور آپ کی روحانیت کو ضرور مارے گی۔آپ کیا تصور کر سکتے ہیں کہ ایسے لوگ جو شادیوں کے بہانے یا اس قسم کی بے پردگیاں کریں آنے والی مہمان عورتوں کی عزت کا بھی خیال نہ کریں، بیرے باہر کے کھلم کھلا اندر پھر رہے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔آج کل کی ماڈرن سوسائٹی میں یہی چل رہا ہے۔یہ کہتے ہوئے مہمان عورتوں کی عصمت سے کھیلنے کا ان کا کیا حق ہے۔اگر بے حیائی کرنی ہے تو پھر مہمان خواتین کو ایک طرف کر دیں ان کو کہیں آپ اٹھ کے چلی جائیں۔جن کو اپنی عزت اپنے پردے کا پاس ہے وہ یہاں نہ بیٹھیں کیونکہ ہم ایسی حرکتیں کرنے والے ہیں جن کو آپ لوگ پسند نہیں کریں گے۔ان کو یہ چاہئے کہ پھر ان کو الگ کر کے پھر اگر کچھ گند کرنا ہے تو کریں لیکن ذمہ دار ضرور ہوں گے اس گند کے لیکن مجھے یہ اطلاعیں بھی ملتی ہیں کہ مہمانوں کو بلایا گیا اور اس کے بعد مردوں کو جو کھلم کھلا بیچ میں پھر رہے تھے ان کو چھٹی دی کہ اچھا جی اب تم لوگ چلے جاؤ اب ہم یہاں خواتین ہیں اور اس کے بعد غیر مرد، بیرے، لچے لفنگے ہر قسم کے گندے اخلاق والے ان کو کہا آ جاؤ اب اندر کھانے سرو کرو یہ کرو وہ کرو۔قرآن کریم نے جہاں گھر کے نوکروں سے پردے میں نرمی کا اظہار فرمایا ہے وہاں ایسے نوکروں کا ذکر ہے جن میں اربہ نہیں رہی۔غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ ( النور :۳۲) جن کے اندر ، گھر والے جانتے ہیں کہ کوئی نفسانی خواہش کا شائبہ بھی موجود نہیں ہے اور گھر کے پلے ہوئے بچے یا بڑے ہوئے ہوئے ایسے ہیں جن سے ہر عورت کی عزت کلیہ محفوظ بلکہ اس کا واہمہ بھی اس کے دماغ میں نہیں آ سکتا۔اس ذمہ داری پر اس اصول کے تابع جب گھر میں نوکروں سے نسبتا نرمی کی جاتی ہے۔تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہوٹلوں کے بیروں کو بھی اندر بلا لو اور ان کی موجودگی میں بلا ؤ جو تمہارے گھر