خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد ۱۲ 76 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء نصیحت کرتا ہوں اور ان کمزور مظلوموں کو بھی نصیحت کرتا ہوں جو آج ظلموں کی چکی میں پیسے جارہے ہیں کہ اپنے اپنے نفوس کو صاف اور پاک کریں۔اپنے دلوں کی حالت بدلیں۔حق وانصاف پر قائم ہوں۔اسی میں انسان کی بہبود ہے اسی میں انسانیت کی بقا ہے اگر یہ نہیں تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی سنت کو اپنے اخلاق ، اپنے کردار میں جاری کریں اور اسی سنت سے دنیا کی نئی تقدیر بنائیں۔نیا نقشہ دنیا میں ابھرے۔ایک خدا ہو، ایک رسول یعنی ہمارے آقا و مولا حضرت محمد اللہ ہوں جن کے جلو میں دنیا کے تمام رسول حکومت کریں، جب میں کہتا ہوں کہ ایک رسول تو یاد رکھو کہ دنیا کے کسی دوسرے مذہب سے تفریق کی بات نہیں کرتا میں اسلام کا عرفان رکھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے۔میں جانتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام رسولوں کو مٹا کر یہ حکومت قائم ہوگی۔تمام رسولوں کے آقا اور سردار ہیں۔آپ کے جھنڈے تلے ہر رسول کا جھنڈا دنیا میں گاڑا جائے گا۔اگر آپ کا جھنڈا بلند ہوگا تو خدا کی قسم آدم کا جھنڈا بھی بلند ہوگا اور نوح کا جھنڈا بھی بلند ہوگا ، ابراہیم کا جھنڈا بھی بلند ہوگا، موسیٰ" کا بھی بلند ہو گا، اسحاق کا بھی بلند ہوگا، اسماعیل کا بھی بلند ہوگا۔محمد مصطفی امیہ کے جھنڈے تلے عیسی کے جھنڈے نے بلند رہنا ہے ورنہ ان جھنڈوں میں سے کسی جھنڈے کو کوئی رفعت نصیب نہیں ہوگی۔یہ وہ مقدرہے جو آسمان سے بنایا گیا ہے جسے میں نے نہیں بنایا۔نہ دنیا کی کوئی طاقت اس مقدر کا تصور کر سکتی ہے۔پس ایسی باتیں نہ کیا کرو کہ محمد رسول اللہ اللہ کا جھنڈا تو ہو لیکن باقی سارے رسول مٹ گئے۔خدا کی قسم محمد ﷺ کی زندگی میں سب رسولوں کی زندگی ہے۔محمد مصطفی ﷺ زندہ ہوں گے تو ساری دنیا کے رسول اگلے اور پچھلے زندہ ہو جائیں گے۔یہ وہ وقت ہوگا کہ جب رسول اکٹھے کھڑے کئے جائیں گے۔یہ وہ وقت ہوگا جس کی قرآن کریم میں پیشگوئی کی گئی ہے۔اے احمد یو! تم سے یہ وقت باندھا جا چکا ہے تمہاری قسمت کے ساتھ اس وقت کی ڈور باندھی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اس عالمی نظام کو دنیا میں ایک دفعہ پھر، ایک دفعہ کیا، پہلی دفعہ دنیا میں اس کو جاری اور ساری کر کے دکھائیں کہ مشرق سے مغرب تک اس نور کی حکومت ہو جو لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرُ بِيَّةِ ہے۔مشرق سے مغرب تک اس ایک محمد کا جھنڈا بلند ہو جس کے جھنڈے تلے تمام رسولوں کے