خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 782
خطبات طاہر جلد ۱۲ 782 خطبه جمعه ۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء سے پہلے پہلے جن بدیوں سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہو علیحدگی اختیار کرلو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں: یا درکھو انسان کو اللہ تعالیٰ نے تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا ہے۔اس لئے اس کو چاہئے کہ اسی میں لگا ر ہے۔اس جہان کی جس قدر چیزیں ہیں۔بیوی، بچے ، احباب، رشته دار، مال و دولت اور ہر قسم کے املاک، ان کا تعلق اسی جہان تک ہے۔اس جہان کو چھوڑنے کے ساتھ ہی یہ سارے تعلقات قطع ہو جاتے ہیں۔۔۔وہ مضمون جو میں ان آیات کے حوالے سے بیان کر رہا ہوں یہ وہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔”۔۔۔اس جہان کو چھوڑنے کے ساتھ ہی سارے تعلقات قطع ہو جاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ ہے اور اس جہان میں بھی اور اس جہان میں بھی اس کی ضرورت ہے۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ: ۳۴۸) پس جس جہان میں جارہے ہیں وہ خلاؤں کا جہان نہ نکلے۔یہ نہ ہو کہ یہاں سے کچھ بھی اس جہان والے سے تعلق کی صورت میں ساتھ لے کر نہ جائیں۔ایک جگہ سے تعلق کا ٹا جائے اور دوسری جگہ تعلق قائم نہ ہو تو یہ بربادی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اتنا کیوں نہیں سوچتے کہ یہ جو دنیا کے تعلقات ہیں، زیادہ سے زیادہ پیارے لوگ۔تمہارے بچے ، تمہارے اقرباء، تم سے محبت کرنے والے، تمہارے محبوب ، تمہاری دولتیں، یہ ساری کی ساری ایک دن لازماً یہیں رہ جائیں گی۔ان کا ایک ذرہ بھی تمہارے ساتھ نہیں جائے گالیکن ایک وجود ہے جو یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ہے۔اس سے اگر تم نے یہاں تعلق قائم کر لیا تو وہاں وہ کام آئے گا۔وہاں تنہائی محسوس نہیں کرو گے اور جتنا تعلق یہاں قائم کرو گے اتنا ہی وہاں تمہارے لئے دلجمعی کے سامان ہوں گے اور دل لگانے کے لئے خدا تعالیٰ تمہارے لئے ایسی ایسی چیزیں ظاہر فرمائے گا کہ جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔تصور نہ کرنے کا مضمون دوسری جگہ بیان ہوا ہے اس کو میں نے یہاں داخل کیا