خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد ۱۲ 781 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء جس جس اندھیرے سے آپ کو روشنی کی طرف بلایا جاتا ہے اس اندھیرے نے آپ کے قدم تھامے ہوئے ہیں کہ نہیں۔یہ مضمون ہے جو ان آیات میں بیان ہوا ہے اگر قدم تھامے ہوئے ہیں تو آپ کے لئے خدا اور رسول کی آواز کا ہاں میں جواب دینا بہت مشکل ہو جائے گا۔باوجود اس کے کہ آپ جانتے ہیں کہ زندگی کی طرف بلا رہے ہیں۔پس جس طرح زندہ کا مرنا مشکل ہے اسی طرح مرے ہوئے کا جینا بھی تو مشکل ہے کیونکہ مشکل کا سارا راز انقطاع میں ہے۔ایک حالت کو چھوڑ کر دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔اس حالت پر پڑے ہوئے آپ کی جڑیں جتنا اس میں قائم ہو چکی ہوں گی اور آپ اس کے ساتھ پیوستہ اور وابستہ ہو چکے ہوں گے اتنا ہی آپ کے لئے جگہ تبدیل کرنا مشکل ہو جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ تبتل کا ہی مضمون اس رنگ میں بیان فرما رہا ہے کہ دیکھو ہاں میں جواب دینا ورنہ تم مرے رہو گے۔خالی ایمان تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔پھر فرمایا : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ (الانفال: ۲۵) تمہاری نیتیں جو کچھ بھی ہوں تم اپنے لئے کئی قسم کے بہانے تراش لیا کرو گے کہ اس بات کا تو میں جواب نہیں دے سکتا اس لئے کہ یہ مشکل ہے، فلاں بات کا اس لئے نہیں دے سکتا کہ یہ مشکل ہے۔آج میں اتنا بوجھ اٹھا نہیں سکتا کل کوشش کروں گا۔نفس ہزار قسم کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یا درکھنا جب خدا اور خدا کے رسول تمہیں بلاتے ہیں تو تمہاری نیتوں کے بیچ میں خدا بیٹھا ہوا ہے۔کیسا حیرت انگیز نقشہ کھینچا گیا ہے۔يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہ انسان کی ذات اور اس کے قلب کے درمیان میں خدا ہے حالانکہ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے قلب کے قریب ترین ہے۔یہاں قلب سے مراد نیتوں کی آخری آماجگاہ ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تم سے بہتر تمہیں جانتا ہے اور جو بھی سوچو گے، جو بھی پیغام تمہارا دل تمہیں بھیجے گا اور وہ عذر بن کر تمہاری زبانوں سے نکلے گا۔ایک Sensor بیچ میں ہو رہا ہوگا۔اللہ تعالیٰ پتا کر لے گا کہ اصل بات کیا تھی۔دل سے کیا اٹھا تھا اور زبان سے کیا نکلا ہے۔اس کا ایک عظیم الشان Sensor کا نظام ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے اور پھر وہی بات فرمائی۔وَاَنَّةَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ۔پس اس آیت میں جو تُخْرَجُونَ کہہ کر فرمایا کہ زمین سے نکالے جاؤ گے اور پھر خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے اس کو یہاں یوں بیان فرمایا کہ وَاَنَّةَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ تم نے آخر وہیں چلے جانا ہے۔اس لئے اس