خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد ۱۲ 663 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء پھر حضرت عمار کے والد یا سر اور ان کی والدہ سمیہؓ کو یاد کریں جو بنومخزوم سے تعلق رکھتے تھے۔بنومخزوم کی غلامی میں کبھی سمیہ رہ چکی تھیں مگر اب آزاد تھیں۔ان کو ایسے عذاب دیئے گئے کہ ان کے ذکر سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔حضرت یاسر تو کچھ عرصہ ان دکھوں کو برداشت نہ کر کے آخر اس دنیا سے رخصت ہوئے ، اپنی جان جان آفرین کے سپر د کر دی۔ان کی والدہ سمیہ پیچھے کچھ دیر زندہ رہیں یہاں تک کہ ابو جہل نے ان کی ران پہ نیزہ مارا جوران کو چیرتا ہوا پیٹ تک اتر گیا اور اس حالت میں انہوں نے تڑپ تڑپ کے جان دے دی۔(مستدرک حاکم کتاب معرفۃ الصحابہ ذکر مناقب عمار جلد ۳ صفحه ۳۸۳) ایک عمار بے چارا بیچارہ گیا تھا۔اس سے بالآخر یہ دباؤ برداشت نہیں ہوا اور ایک موقع پر اس نے اپنی جان بچانے کے لئے عذاب سے چھٹکارے کے لئے کلمہ کفر کہہ دیا لیکن بعد میں زار زار رو تا اور تڑپتا ہوا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا یا رسول اللہ ! میں آپ سے اپنے متعلق کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔میں عذاب میں مبتلا ہوں مجھے کوئی چین نہیں ہے۔یا رسول اللہ کے میں ہلاک ہو گیا ہوں ، مجھے ظالموں نے اتنا دکھ دیا کہ میں کچھ نا گفتنی با تیں کہ بیٹھا ہوں۔آپ نے فرمایا تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو ؟ عرض صلى الله کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میرا دل تو اسی طرح مومن ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اسی طرح سرشار ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر خیر ہے؟ خدا تمہاری اس لغزش کو معاف فرما دے گا۔( طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحہ ۲۴۶) یہ تو آپ ﷺ کے غلاموں کا حال تھا۔جن کو آپ نے تربیت دی تھی مگر ساری قوم جوان غلاموں کی طرح ہی ذلت اور رسوائی کی نکبت کا شکار ہو چکی تھی۔بڑے بڑے سردار تھے جن کی سرداریاں جاتی رہیں۔بڑے بڑے صاحب شوکت اور ہبیت انسان تھے جن سے ادفی ذلیل انسانوں کی طرح سلوک کئے گئے یہاں تک کہ ان کی ہمتیں جواب دے گئیں۔سوال یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کا ان باتوں میں کیا حال ہوتا ہو گا؟ میں تو اپنی کیفیت کو دیکھ کر کچھ اندازے کرتا ہوں۔دنیا بھر میں کسی جگہ بھی احمدی پر ظلم ہوتو مجھے نا قابل برداشت اذیت پہنچتی ہے اور اس وقت میں سوچتا ہوں میری اس اذیت کی جو انتہا ہے محمد رسول اللہ کی اذیت کا۔صلى الله آغاز ہوتا ہے۔آپ کے قدم میری اذیت کے سر پر ہیں اور آپ رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء: ۱۰۸) تھے۔ان کے مقابل پر کوئی دنیا میں اور شخص ایسا نہیں ہو سکتا تھا جیسا آپ تھے۔پس ان