خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 659
خطبات طاہر جلد ۱۲ 659 خطبه جمعه ۲۷ را گست ۱۹۹۳ء ان میں لطف محسوس کیا کرتے تھے۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ چا دھوئیں دے دے کر سمجھتا تھا کہ اب اس کا دم گھٹنے والا ہے باز آچکا ہوگا تو جھانک کر دیکھتا تھا۔پوچھتا تھا کہ کیا حال ہے؟ وہ کہا کرتے تھے صداقت کو پہچان کر پھر اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔اس کے سوا اور کوئی جواب نہیں تھا۔( مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ ۱۵۱) سعید بن زید جو حضرت عمرؓ کے بہنوئی تھے بنو عدی سے تھے اور اپنے حلقے میں معزز تھے۔وہاں بھی عرب دستور کے مطابق غیر کو جرات نہیں تھی کہ ان کو تکلیف پہنچا تا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود اپنے بہنوئی کو بعض دفعہ اس طرح مارا کرتے تھے کہ لٹا کر چھاتی پر سوار ہو جاتے تھے اور کبھی بہن نے چھڑانے کی کوشش کی تو وہ زخمی بھی ہو گئیں لیکن مسلسل اس اذیت کے باوجود انہوں نے ایک دفعہ بھی کلمہ کفر نہ منہ سے نکالا اور توحید ہی کا ہمیشہ اقرار کرتے رہے۔( بخاری کتاب المناقب باب اسلام سعید بن زید ) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، ان کے نام سے کون واقف نہیں ہوگا۔آپ قبیلہ ہذیل میں سے تھے۔انہیں قریش نے ایک دفعہ محن کعبہ میں اتنا مارا کہ وہ ہلکان ہو کر اس طرح گر پڑے گویا مردہ ہو چکے ہوں (اسد الغابہ تذکرۃ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ آپ سے بہت کام لینے تھے اس لئے انہیں لمبی زندگی عطا فرمائی اور ساری امت پر ہمیشہ کے لئے روایات اور تفسیر کے سلسلے میں ان کے ذریعے بہت بڑا احسان فرمایا۔ابوذرغفاری کو قریش اتنا مارا کرتے تھے کہ مارتے مارتے زمین پر بچھا دیتے تھے یعنی اس طرح نڈھال کر کے پھینک جاتے تھے کہ گویا وہ مر چکا ہے اور پھر اٹھ نہیں سکے گا۔ایک ایسے موقع پر حضرت عباس بن ابوالمطلب نے ان کو کہا یعنی اذیت دینے والوں کو، دیکھو تم ایسا نہ کرو کیونکہ یہ شخص بڑے طاقتور بنو غفار سے تعلق رکھتا ہے اور بنو غفار تمہارے شامی تجارت کے رستے میں واقع ہیں۔عرب عصبیت اگر بھڑک اٹھی اور ان کو پتا چلا کہ تم ان کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو، تمہارے تجارت کے رستے بند ہو جائیں گے۔چنانچہ اس وجہ سے پھر انہوں نے حضرت ابو ذرغفاری سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے۔( صحیح بخاری کتاب بنیان الکعبه باب اسلام ابی ذر ) یہ تو آزادوں کا حال تھا۔آپ اندازہ کریں کہ غلاموں سے کیا سلوک ہوتا ہو گا ؟ آزاد