خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 658
خطبات طاہر جلد ۱۲ 658 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء اس موقع پر جن صحابہ کے نام میں نے مثال کے طور پر آپ کے سامنے رکھے ہیں ان میں ایک نام حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے جو بنو امیہ میں سے تھے۔آنحضرت مہ کے دعوئی کے وقت پختہ عمر کے تھے اور خوش حال تھے اور بہت معزز تھے۔ایسے تھے جن کا بہت احسان لوگوں پر تھا۔لیکن آپ پر بھی ظلم توڑے گئے اور عرب دستور کے مطابق یہ ظلم ایک ایسے شخص نے آپ پر روار کھے جس کو باقی قوم پوچھ نہیں سکتی تھی۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے باقی جو عرب اہل مکہ تھے ان میں سے چونکہ اکثر پر آپ کے احسانات بہت تھے اور پھر یہ بھی ایک رواج تھا عربوں میں کہ کوئی طاقتور قبیلے کا فرد ہو تو اس قبیلے سے باہر کے آدمی اس کو گزند نہیں پہنچا سکتے کیونکہ عربوں میں عصبیت بہت تھی۔خواہ مذہبی اختلاف پر بھی ان کو زدو کوب کیا جاتا ان کی عصبیت بعض دفعہ کھڑی ہوتی تھی۔کہتے تھے کہ تم نے ہمارے آدمی کو مارا ہم تمہارے آدمی کو ماریں گے۔پس حضرت عثمان پر جو مظالم توڑے ہیں آپ کے چا حکم ابن العاص نے توڑے ہیں، آپ کو رسیوں سے باندھ کر پیٹا جاتا تھا اور مسلسل لمبے عرصے تک یہ ظلم آپ پر بر پاکئے جاتے رہے لیکن آپ نے کبھی اف نہیں کی۔اسی طرح رسیوں میں بندھے ہوئے مار کھاتے رہے۔(طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحہ ۵۵) پھر زبیر بن العوام تھے جوقبیلہ اسد سے تعلق رکھتے تھے۔جواں مرد اور خو برونو جوان تھے۔ان کو بھی ان کا ظالم چچا ہی سزائیں دیا کرتا تھا۔ان کو چٹائی میں لپیٹ کر آگ کا دھواں چٹائی میں دیتا تھا۔اس سے دم گھٹتا اور نہایت ہی خوفناک اذیت ہوتی تھی لیکن خاموشی سے صبر کے ساتھ اس کو برداشت کرتے رہے اور ایک دفعہ بھی آپ نے کوئی کلمہ کفر منہ سے نہ نکالا۔ان دو چوں کی مثال میں نے پہلے اس لئے دی ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہے کے بھی ایک چاتھے ان پر بھی قوم نے دباؤ ڈالا تھا لیکن آخر وقت تک انہوں نے آنحضرت ﷺ کی حمایت سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا۔جب کھینچنے کے لئے آمادہ ہوئے تھے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہے کے جواب کی شوکت سے ایسا متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے ! جو چاہے کرتا پھر، میں ہمیشہ تیرے ساتھ رہوں گا۔پس اس وجہ سے میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابو طالب سے رحم کا سلوک فرمائے گا اور ان کو بھی اپنی رحمتوں سے خالی نہیں رکھے گا۔دوسرے بھی تو چاتھے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔دیکھیں! کیسے ظالم لوگ تھے اور کس طرح توحید سے دامن چھڑانے کے لئے کیسی کیسی تکلیفیں ایجاد کرتے اور