خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 637
خطبات طاہر جلد ۱۲ 637 خطبه جمعه ۲۰ /اگست ۱۹۹۳ء ما صلى الله عملاً خدا سے مانگنے ہی کی ایک قسم ہے اگر خدا کے حوالے سے مانگا جائے لیکن بعض لوگ بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہم دعا کے لئے کہہ رہے ہیں اور مراد یہ ہوتی ہے کہ جس کو دعا کے لئے کہہ رہے ہیں ، اس کی دعا سے زیادہ اس کی عطا پر اعتماد ہے۔وہ دعا کرے نہ کرے کچھ دے تو دے۔یہ نفس کے باریک دھو کے ہیں اور ہر قسم کے دھوکے کی نفی کرنا تو حید کا کام ہے، توحید خالص کے نتیجے میں انسان نفس کے بار یک سے باریک دھوکوں سے بھی آزاد ہوتا چلا جاتا ہے جب کامل طور پر توحید عطا ہو جائے تو پھر ایسے بہانوں اور ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے انسان بہت بلند ہو جاتا ہے۔یہ سفر ہے جو عام حالت سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی اعلیٰ وارفع ذات کی طرف کا سفر ہے۔سفر تو سب خدا ہی کی طرف ہونا چاہئے۔پھر میں نے کیوں کہا کہ یہ سفر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کی طرف کا سفر ہے اس لئے کہ یہ وہی رستہ ہے جو خدا کی طرف لے جاتا ہے اور اس رستے پر سب سے آگے حضور صلى الله اکرم ، تو آپ پیچھے پیچھے خدا کی طرف سفر تو کر سکتے ہیں آگے بڑھ کر وہ سفر نہیں کر سکتے۔اس لئے وَمَنْ تُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ (النساء: (۷۰) کا پیغام سمجھ آجاتا ہے۔فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ تم اطاعت کرو اللہ کی یعنی اس کے رسول کی بھی ، وَالرَّسُول میں خدا کی ذات کے سوا مقابل پر ذات کھڑی نہیں کی گئی۔یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت لیکن کس طرح اطاعت کرو گے محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو گے تو خدا کی اطاعت سمجھ آئے گی ، ورنہ تمہیں سمجھ نہیں آ سکتی۔اس رسول کی اطاعت ضروری ہو گئی ہے تمہارے لئے کیونکہ اس نے اطاعت کے سارے مراحل طے کر لئے اور کامل طور پر کر لئے اور توحید خالص بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی سے نصیب ہو سکتی ہے ورنہ بڑے بڑے موحد کہلانے والے ہیں جن کے نفس نے ان کو دھوکہ دے رکھا ہے۔توحید کے نام پر میں نے شرک کی تعلیم دینے والے بھی دیکھے ہیں۔پس ایک ہی پاک تو حید ہے کسی غیر اللہ کا کوئی شائبہ نہیں ، کوئی سایہ بھی نہیں پڑتا۔وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تو حید ہے۔اس تو حید پر کامل بنا کرتے ہوئے ایک ذرہ بھی شک نہ رکھتے ہوئے دل میں ، آپ کی متابعت کریں تو معراج کی طرف حرکت ہے یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری مقام کی طرف حرکت ہے۔الله الله صلى الله اس ضمن میں میں آج کل کے بہت سے موحد کہلانے والے فرقوں کا ذکر کر نا ضروری سمجھتا