خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 636 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 636

خطبات طاہر جلد ۱۲ 636 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء ذہن بھی نہیں پہنچ سکتا تھا ، اس کا تصور بھی نہیں جاتا تھا۔تو پھر تو فیق بڑھ جاتی ہے اس لئے اگر آپ زیادہ مانگیں گے تو ہو سکتا ہے آپ کی بڑھی ہوئی تو فیق کے زمانے میں عطا ہو جائے۔پھر مرنے کے بعد کی دنیا میں انسان ہمیشہ ترقی کرے گا۔مسلسل ایک حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف چلے گا اور آج کی دعائیں ، کل کی دنیا میں کام آئیں گی۔پس خدا تعالیٰ سے جب مانگا جائے تو لامتناہی مانگنا چاہئے ، اپنی موجودہ حیثیت کو دیکھ کر نہیں، بلکہ خدا کی لامتناہی شان اور لامتناہی صفات کو دیکھتے ہوئے اور علم کامل کو دیکھتے ہوئے یہ توقع رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اتنا ہی دے گا جو آج ہم اپنی ذات میں سمو سکتے ہیں اور جوں جوں ہماری ذات کی صلاحیتیں بڑھتی جائیں گی اللہ تعالیٰ ان باتوں کو یا در کھے گا، عطا بڑھاتا چلا جائے گا۔یہ باتیں ہم نے حال ہی میں دیکھی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خدا سے مانگا تھا اس کے بہت سے حصے ہم نے آج اترتے دیکھے ہیں کیونکہ اس زمانے میں جماعت میں وہ صلاحیت نہیں تھی۔اب وہ صلاحیتیں پیدا ہوئی ہیں ، اس زمانے میں صلاحیتیں نہیں تھیں جواب پیدا ہوئی ہیں اور ان صلاحیتوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ان دعاؤں کو یادرکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ کیا کہ ہاں میں دوں گا اور ایسی شان سے وہ وعدے پورے کئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پس مانگتے ہوئے یا درکھیں کہ وہی ایک ذات ہے جس سے مانگنا ہے، کسی اور سے نہیں مانگنا اور اسی کے آگے دامن پھیلانا ہے اور اسی سے یہ توفیق مانگنی ہے کہ خدا غیر اللہ کا محتاج نہ کرے۔اس ضمن میں میں جماعت کے غریب طبقے کو نصیحت کرتا ہوں کہ بعض دفعہ وہ مانگتے تو نہیں مگر طر زایسی اختیار کرتے ہیں کہ جو مانگنے کے مترادف ہو جاتی ہے۔مجالس میں بیٹھ کر اپنی غربت کے حال بیان کرتے ہیں ، خطوں میں تفصیل لکھتے ہیں اور عادت ہے بعض لوگوں کو بیچا روں کو کہ وہ بیان کرتے ہیں بار بار حالانکہ غربت سے انسان طبعا شر ما تا ہے، اپنی کم مائیگی اور بے بسی پر۔انسان کو اپنی ذات پر تو رونا آتا ہے لیکن بیان کرنے سے شرماتا ہے یعنی یہ سعید فطرت ہے۔جب بیان کرتا ہے تو مراد یہ ہے کہ لوگوں کو علم ہو کہ میں ہوں کیا؟ اور اس کے نتیجے میں لوگ مجھے کچھ دیں۔اگر بے اختیاری کی حالت میں ایسا ہو تو گناہ نہیں ہے مگر قولِ سدید سے کام لینا چاہئے۔کسی کو کہنا چاہئے کہ میں اس طرح ضرورت مند ہوں ، تمہارا بھائی ہوں میرا تم پر حق ہے مجھے کچھ دے دو اور خدا کی خاطر دو۔تو یہ