خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 632
خطبات طاہر جلد ۱۲ 632 خطبه جمعه ۲۰ را گست ۱۹۹۳ء میں ڈھانپے جاتے ہیں کہ اس ستاری کے پردے تلے انسان ان گناہوں کی بیماریوں کو دور کرتا چلا جاتا ہے اور ان سے صحت یاب ہوتا چلا جاتا ہے۔ (مسلم کتاب البر واصله حدیث نمبر : ۴۶۷۴) استغفار حقیقت میں اسی کا نام ہے۔ استغفار کا ایک پہلو ہے کریدتے ہوئے مٹی میں چھپ جانا یا کسی اور چیز کے پیچھے جیسے حضرت آدم پتھر کے پیچھے چھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے گناہوں کو حیا کے نتیجے میں چھپانا ، یہ استغفار ہے۔ یہی عمل حیا کے نتیجے میں نہیں بلکہ دکھاوے کے نتیجے میں بھی ہوتا ہے اور منافقت کے نتیجے میں بھی ہوتا ہے۔ ایک آدمی اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے حیا کے نتیجے میں نہیں بلکہ ریا کاری کے نتیجے میں ۔ وہ عمل استغفار نہیں ہے۔ استغفار کا تعلق حیا سے ہے اور جب حیا کے نتیجے میں خدا سے بخشش مانگی جائے اور اس پر پردہ ستاری کو طلب کیا جائے تو لازماً حیا کا تقاضا ہے کہ اس بات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک انسان کے چہرے پر داغ ہو وہ باہر نکلتا ہے، شرماتا ہے تو اس داغ کو دور کرنے کی بھی تو کوشش کرتا ہے۔ اس کو اسی طرح تو نہیں لئے پھرتا ہے۔ پس حیا کا تعلق ایک احساس سے ہے کہ میرے اندر ایک نقص ہے اور وہ حیا اس نقص کو دور کرنے میں محمد ثابت ہوتی ہے اور اس کی طرف توجہ دلاتی رہتی ہے۔ پس خدا سے بخشش مانگنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ اے خدا ہمارے پر دے ڈھانپ دے اور ہم جو چاہیں کرتے رہیں اور اسی طرح رہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہمیں موقع دے، استطاعت عطا فرما کہ ہم چھپ کر جہاں تک زور لگتا ہے ان گناہوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہیں ۔ پس اس کا تعلق بھی لباس ہی سے ہے۔ دیکھیں کیسا فصیح و بلیغ کلام ہے۔ لباس کے معا بعد جبکہ عام انسان کا ذہن اس طرف جاہی نہیں سکتا کہ آگے کیا مضمون ہونا چاہئے ۔ فرمایا میرے بندو ! تم دن رات غلطیاں کرو تو بھی میں تمہارے گناہ بخش سکتا ہوں۔ یہاں گناہ بخشنے کا جو اردو محاورہ ہے اس کی طرف نظر نہ رکھیں بلکہ جو عربی میں استغفار اور غفران کا مضمون ہے اس کو پیش نظر رکھیں تو یہ بات بنے گی جو میں آپ سے پہلے عرض کر چکا ہوں ۔ پس مجھ سے ہی بخشش مانگو، مجھ سے استغفار کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کہ نقصان پہنچانے کا ارادہ کرو اور نہ تم مجھے نفع پہنچا سکتے ہو۔ اس کا تعلق بدی اور نیکی سے ہے۔ خدا کو ویسے تو کوئی نقصان پہنچا ہی نہیں سکتا لیکن خدا کے احکام کی بے حرمتی کر کے، گناہوں میں ملوث ہو کر ، خدا سے ایک قسم کی بے اعتنائی اور تکبر کا اظہار کر سکتا ہے