خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد ۱۲ 633 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء اور یہی مراد ہے نقصان پہنچانے کی تو فرمایا کہ تم گناہ تو کرتے ہو اور اگر مجھ سے بخشش مانگو گے تو میں بخش دوں گا اور بخش سکتا ہوں لیکن اگر تم بے پرواہ ہو جاؤ اور مجھ سے بے نیاز ہو جاؤ تو تمام عمر گنا ہوں میں ملوث رہو، سیاہ ترین اعمال کے مرتکب ہو لیکن تم میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور یا درکھو کہ تمہاری نیکیاں بھی مجھ پر کوئی احسان نہیں اور میری سلطنت میں ایک ذرے کا بھی اضافہ نہیں کر سکتیں جو کچھ ہے تمہارے لئے ہے۔گناہ کرو گے تو تم اپنا نقصان اٹھاؤ گے، اپنی ذات کو نقصان پہنچاؤ گے، اگر نیکیاں کرو گے تو اپنے لئے۔ہاں یہ فیض میری طرف سے پہنچے گا، تمہیں بدیوں سے بچاؤں اور تمہارے گناہوں کو بخشوں اور نیکیوں کی جزا دوں کیونکہ بدیوں کی سزا سے بچنا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔نیکیوں کی جزا پانا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔انسان تو خدا کا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔نہ بدیوں سے نقصان نہ نیکیوں سے فائدہ لیکن خدا اس کو بدیوں سے بچا کر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نیکیوں کی جزا دے کر جو مالک ہے چاہے تو نہ دے اس کو عطا فرما سکتا ہے تو کلیۂ احسان کا رخ خدا کی طرف سے بندوں کی طرف ہے۔پھر فرمایا اے میرے بندو! اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے جن و انس سب کے سب اول درجے کے متقی اور پر ہیز گار بن جائیں اور اس شخص کی طرح بن جائیں جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔سمجھے ہیں کہ کون مراد ہے ؟ حضرت اقدس محمد مصطفی امت ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے یہ رستہ کھلا رکھا ہے کہ ایک انسان محمد ماہ تک پہنچے لیکن پہنچ کوئی نہیں سکے گا کیونکہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ عالم الغیب ہے اس کھلی دوڑ کی آزادی دے کر جانتا ہے کہ کون آگے نکل چکا اور کوئی اس کے بعد اسے پیچھے نہیں چھوڑ سکے گا۔اس مضمون کو توڑ مروڑ کر وہ گندا چھالا کہ دیکھو جی، یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کتنے محمد بن سکتے ہیں؟ کروڑوں بن سکتے ہیں۔نعوذ باللہ من ذلک۔اور ہرگز یہ مراد نہیں، یہ گستاخی نہیں ہے، یہ ایک شان کا اظہار ہے خدا تعالیٰ یہی بیان فرمارہا ہے۔کہتا ہے کہ تم میں سارے محمد بن جائیں۔تب بھی میری سلطنت میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔اگر اتقاکم سے محمد رسول اللہ مراد نہیں ہیں تو اور کون مراد ہو سکتا ہے۔یہ تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ متقی حضرت محمد رسول اللہ یہ تھے۔تم سارے بن جاؤ تب بھی میری سلطنت میں اضافہ نہیں کر سکتے۔پس وہ لوگ جو بعض دفعہ عشق محمد میں مبالغہ اس حد تک کرتے ہیں کہ گویا خدا محمد کے لئے پیدا ہوا، یا تھا۔ان کو تقوی اختیار کرنا چاہئے۔حضرت