خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 631
خطبات طاہر جلد ۱۲ 631 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء چھوٹی عمر میں بیعت کا شرف حاصل کیا اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں چھٹے نمبر کا مبائع ہوں۔میں نے چھٹے نمبر پر آنحضور علی کی بیعت کی اور بیعت کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔یہ کسی کی بکریاں چرا رہے تھے۔حضرت رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر کا وہاں سے گزر ہوا اور آپ کو بھوک بھی ہو گی اور پیاس بھی۔آپ ﷺ نے اس بچے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہمیں بکری کا دودھ دوہ دو۔تو یہ بڑے نیک فطرت تھے۔انہوں نے کہا میری بکریاں نہیں ہیں، کسی کی ہیں اور میں امین ہوں، میں امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔آنحضرت ﷺ کوخدا پر ایسا کامل اعتماد اور یقین تھا کہ اسی وقت فرمایا کہ تم بکری کا دودھ دوہ دو اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس دودھ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔اللہ تعالیٰ خود کمی پوری فرمائے گا اور تمہاری امانت قائم رہے گی۔ابو مسعود کہتے ہیں کہ جب میں نے دودھ دوہا اور ان کو پلایا تو دیکھتے دیکھتے تھن دوبارہ بھر گیا اور اسی طرح بھر گیا۔کہتے ہیں کہ یہ نشان دیکھ کر ہی میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور بہت جلد اس کے بعد آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔یہ ابن مسعود ہیں۔ابو مسعود وہ ہیں جو ابو مسعود انصاری۔یہ بدری بھی کہلاتے ہیں، یہ اور ہیں ،ابن مسعود اور ہے جو روایت تھی وہ ابو مسعود کی تھی۔اب میں وہ بقیہ روایت آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں میں یہاں تک پہنچا تھا۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے منبر پر چڑھ کر بڑے جوش اور بڑی شان وشوکت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گائے ، خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر فرمایا اور خدا کی طرف سے یہ پیغام بنی نوع انسان کو دیا۔اس پیغام کا ایک حصہ یہ تھا کہ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو ،سوائے اس کے جس کو میں لباس پہناؤں۔( یہاں تک میں بات کر چکا تھا۔اب اس کا اگلا حصہ ہے۔) پس مجھ سے لباس مانگو۔میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔اے میرے بندو! تم دن رات غلطیاں کرو تو بھی تمہارے گناہ بخش سکتا ہوں۔پس مجھ سے ہی بخشش مانگو۔یہ مضمون آپس میں بہت گہراتعلق رکھتا ہے۔لباس کے متعلق میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اصل لباس تو نباسُ التَّقوى (الاعراف: ۲۷) ہے۔وہ لباس صلى الله اگر نصیب نہ ہو تو انسان ہر لباس میں نگار ہتا ہے اور اس کے معاً بعد حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ خدا کا جو پیغام دیتے ہیں۔وہ اسی بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر چہ عام لباس کا بھی ذکر ہو تب بھی اصل لباس وہ لباس ہے جو خدا کی طرف سے عطا ہوتا ہے جس سے گناہ ڈھانپے جاتے ہیں، جس سے گناہ ایسی حالت