خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 617
خطبات طاہر جلد ۱۲ 617 خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۹۳ء کبھی کسی کو نہیں مارا نہ کسی عورت کو، نہ خادم کو البتہ اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خوب جہاد کیا ہے۔(مسلم کتاب الفضائل حدیث نمبر : ۴۲۹) یعنی مزاج ایسا تھا کہ کسی کے اوپر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتے تھے لیکن خدا کے رستے میں جہاد بہت کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ دراصل آپ کی نرمی بھی خدا کی خاطر تھی اور آپ کی سختی بھی خدا کی خاطر تھی۔ایک پہلو جو اس میں بیان ہونے سے رہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ کبھی کسی کو نہیں مارا تو کیوں نہیں مارا؟ اللہ کی وجہ سے۔اللہ کی محبت سے اور اللہ کے خوف سے کیونکہ یہ بات کہ نہ مارنے کا تعلق خدا کے خوف سے تھا یہ حضرت ابی مسعود کی ایک روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ کسی غلام کو مار رہے تھے، اس سے کوئی بہت نازیبا حرکت ہوئی تھی، تو حضرت رسول اللہ یہ اس طرف بڑھے اور خدا کا خوف دلایا کہ یہ کیا کر رہے ہو۔آپ کی آواز میں ایسا جلال تھا کہ حضرت ابی مسعودؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں اس غلام کو آزاد کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔اگر نہ کرتے تو جہنم کا خطرہ تھا یعنی میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈراتا ہوں۔(مسلم کتاب الایمان ) اس کا مطلب ہے کہ آپ کا مار سے رکنا اللہ کے جلال کی وجہ سے تھا اور دوسروں کو جب آپ نے اس طرح کمزوروں پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو اس وقت آپ کے دل کی نیت کھل کر باہر آگئی۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار آپ کو نصیحت کی ہے کہ حضور اکرم یہ کی خاموش سیرت گہرے پانی کی طرح ہے۔اس میں ڈوب کر آپ کے حسن و جمال کا اندازہ کریں تو حیران ہو جائیں گے کہ ان خاموش اداؤں میں خدا کی کتنی گہری محبت پائی جاتی تھی اور توحید کتنی زیادہ اس میں جلوہ گر تھی۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ کی سیرت کا عرفان عطا فرمائے کیونکہ اگر سیرت کا عرفان ہو جائے تو ہماری زندگیوں کے نقشے بدل سکتے ہیں۔اللہ کی خاطر جہاد کیا ہے مراد یہ ہے کہ جہاں خدا کی خاطر سختی کرنی پڑی ہے وہاں ضرور کی ہے اور وہ مثال نظر آتی ہے جو میں نے پہلے بیان کی تھی یعنی حدود کے اطلاق میں کوئی نرمی نہیں کی۔اتنا نرم دل تھا کہ کسی کو ادنی سی تکلیف بھی نہیں پہنچا سکتے تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کی حدود کا سوال ہوا ہے تو دل کو پتھر کرلیا اور خدا کی رضا کی خاطر وہ سزا دی کہ آپ کی ذات کے ساتھ اس سزا کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔یعنی ایسی سزائیں کہ جن کو سنتے ہیں تو آج بھی دل دہلتا ہے کہ اتنی سخت سزا ہے اور جاری کرنے والا وہ ہے وہ جو دنیا میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔اس ذات کو اس سزا کے نتیجہ میں جو تکلیف پہنچتی ہوگی۔یہ بھی وہ خاموش سیرت ہے، جس کا بیان ہمیں نہیں ملتا مگر آنحضرت مو