خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 618
خطبات طاہر جلد ۱۲ 618 خطبه جمعه ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء صلى الله جب بھی کوئی سزا نافذ کرتے تھے تو چونکہ یہ آپ کی فطرت کے مخالف چیز تھی اس لئے مجھے یقین ہے کہ آپ کو سزا پانے والے سے بڑھ کر تکلیف ہوتی تھی مگر رضائے باری کی خاطر ، خدا کے نام پر، اس کی محبت میں جو جہاد فرمایا ہے وہ اس قسم کا جہاد ہے جس کا ذکر حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا ورنہ جو قتال ہے اس میں تو آنحضرت میہ نے صرف ایک بدنصیب شخص کو نیزہ مارا تھا اور جس کی نوک سے آخر وہ مارا گیا۔نوک لگنے سے ہی وہ زخم اتنا گہرا ہو گیا کہ وہ مر گیا، ورنہ حضور اکرم ﷺ کے دشمن کو عملاً مارنے کی کوئی اور گواہی میرے علم میں نہیں ممکن ہے کہ لڑائی کے دوران کہیں تھوڑی بہت ضرب پہنچی ہو لیکن تاریخ نے محفوظ نہ کی ہو۔پھر فرماتی تھیں : خدا کی خاطر انتقام چھوڑ دیتے تھے ، انتقام نہیں لیتے تھے لیکن جب خدا کی حرمت کا سوال اٹھتا اور شعائر کی بے حرمتی کی جاتی تو پھر اس کا انتقام ضرور لیتے تھے۔مراد وہی بات ہے جو میں نے کی ہے کہ شعائر کی بے حرمتی میں اسی حد تک انتقام لیتے تھے جس حد تک اللہ تعالیٰ انتقام کی ہدایت فرماتا تھا اس سے بڑھ کر نہیں۔پس اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعلمین میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کے وہ تمام پہلو ہیں جن میں آپ کا کسی غصہ کے اظہار سے رک جانا بھی شامل ہے، محبت اور پیار کا اظہار بھی شامل ہے، عفو بھی شامل ہے اور سزا بھی شامل ہے۔یہ تمام امور حضور اکرمﷺ کی تو حید کے ساتھ کامل وابستگی کے نشان ہیں تو حید کے ساتھ کامل وابستگی ان معنوں میں کہ خدا کے بعد کوئی ذات باقی نہ رہی۔اپنی ذات بھی آپ نے کھو دی۔جہاں تک آپ کی کائنات کا تعلق تھا اس کائنات میں خدا کے سوا کوئی وجود نہیں تھا اور خدا کے وجود کے حوالے سے دوسرے وجو د ابھرتے تھے۔خدا ان وجودوں سے جو سلوک چاہتا تھا، وہی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ا للہ وہی سلوک ان سے کرتے تھے۔اپنی ذات بھی مٹ گئی تھی ، ساری کائنات مٹ چکی تھی۔صرف ایک اللہ باقی تھا اور اللہ کے حوالے سے ایک نئی کائنات ابھری تھی۔موحد کے لئے ایک نئی دنیا پیدا ہوا کرتی ہے۔تبھی قرآن کریم نے خَلْقًا أَخَرَ (المومنون: ۱۵) کا مضمون بیان فرمایا ہے۔وہ مومن جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے تعلق باندھ لیتا ہے اور خدا کا اس سے تعلق قائم ہو جاتا ہے اس الہی تعلق کے نتیجہ میں وہ خَلْقًا أَخَرَ پاتا ہے اگر اس کو اسی دنیا میں نئی خلق عطا ہوئی ہے تو باقی دنیا بھی دراصل اس کے لئے ایک نئی خلق کی صورت میں ابھرتی ہے وہ دنیا کو نئے