خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 616
خطبات طاہر جلد ۱۲ 616 خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۹۳ء احسان خدا ہی کا ہے۔پس اللہ کے احسان کو ہمیشہ غالب رکھیں اور اتنا نمایاں طور پر غالب رکھیں کہ آپ کے ذہن کے بھی کسی گوشے میں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ کوئی بزرگ آپ کا اس رنگ میں وسیلہ بنا ہے۔جیسے دنیا کے دوسرے مذاہب میں بزرگ پرستی شروع ہو گئی ہے، آج نہیں تو کل یہ چیز بزرگ پرستی میں تبدیل ہو سکتی ہے اور بزرگ پرستی سے تو مجھے ایسی نفرت ہے کہ خدا نے میری طبیعت میں اس کے خلاف اشتعال رکھ دیا ہے۔میں برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ دنیا میں بزرگ پرستی کی جائے میں تو آپ سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ سب اولیاء اللہ بنیں بہت مزہ آتا ہے جب دعا گومر بی لکھتے ہیں کہ افریقہ کے جنگلوں میں یہ ہو رہا تھا اور ہم بالکل عاجز آگئے تھے۔تو ہم نے عاجزانہ دعا کی اور خدا نے اس طرح نشان دکھایا۔یہ تو بہت مزے کی بات ہے اور دل خوش ہو جاتا ہے لیکن بزرگ پرستی کا رنگ اختیار نہ کریں خواہ میری ذات سے متعلق ہی ہو کیونکہ یہ آئندہ نسلوں کی تباہی کا موجب بن سکتی ہے۔مرتبہ وہی ہے جو خدا کا مرتبہ ہے۔اس کے بعد سارے مرتبے اس کے تعلق سے بنتے ہیں اور اس اولیت کو اور اس ثانویت کو اتنا واضح طور پر پیش نظر رکھنا چاہئے کہ شرک کو نہ تصور میں، نہ عمل میں داخل ہونے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔اپنے آپ کو شرک سے کلیۂ پاک کریں۔پس یہی وہ تو حید کا مضمون ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفی اس کے متعلق قرآن کریم نے یہ گواہی دی ہے کہ اے محمد ! تو یہ اعلان کر۔اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہ میری عبادتیں اور میری تمام تر قربانیاں، میری زندگی اور موت، میر امرنا، جینا ،سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہو چکا ہے۔اس مضمون کا اطلاق آپ کی زندگی کے ہر شعبے پر مکمل تھا۔اس آیت کی راجدھانی آپ کی مکمل ذات پر تھی ، آپ کی ذات کا ایک ذرہ بھی اس آیت کے عمل سے باہر نہیں تھا، آپ کا وجود کامل طور پر اس آیت کے تابع زندگی بسر کر رہا تھا۔اس ضمن میں جو گواہیاں کثرت سے ملتی ہیں ان میں سے ایک حضرت عائشہ صدیقہ کی حدیث ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں بیان ہوئی ہیں مگر غور طلب بات یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی ایسی ہیں جن میں انسان عموماً سمجھتا ہے کہ چھوٹی سی باتوں میں اگر خدا کی مرضی سے ہٹ بھی جایا جائے تو کوئی حرج نہیں۔حالانکہ بعض دفعہ چھوٹی باتوں میں اطاعت زیادہ عظمت کا نشان ہے اور تو حید پرستی کی زیادہ علامت بن جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ آپ نے