خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 600
خطبات طاہر جلد ۱۲ صلى الله سلام ۔ 600 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۹۳ء لرتا ہوں امید ہے کہ خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ اے محمد ﷺ میں دیوانگی کی اس بیماری کا دم کرتا ہوں ام اللہ تعالیٰ میرے دم کی وجہ سے آپ کو شفا دے گا ۔ آنحضرت ﷺ نے جب یہ بات سنی تو اس پر آنحضرت ﷺ نے ضماد کے سامنے یہ کلمات بیان فرمائے ۔ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدَهُ وَنَسْتَعِيُنَهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مَضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَد اَنْ لَّا إِلهَ إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ۔ وأَشْهَدَانَّ مُحَمَّدًا عَبْدَهُ وَرَسُولَهُ۔ أَمَّا بَعْدِ قَالَ فَقَالَ، اعِدٌ عَلَى كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ فَأَعَاوَهنَّ عَلَيْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْت قَوْمَ الْكَهَنَةِ وَقَوْلَ السَّحَرَةِ وَقَوْلَ الشَّعَرَاءِ فَمَا سَمِعْت مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ۔ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعَوسَ الْبَحْرِ قَالَ فَقَالَ هَاتِ يَدَكَ آبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ فَبَايَعَهُ (صحیح مسلم کتاب الجمعہ حدیث نمبر : ۱۴۳۳) سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے سو ہم اسی کی حمد کرتے ہیں ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ ٹھہرائے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اس کے بعد آپ کچھ فرمانے لگے تو ضماد نے کہا ذرا یہی کلمات دہرائیے، دوبارہ فرمائیے۔ آنحضور ﷺ نے یہی کلمات تین دفعہ دہرائے ۔ اس پر ضماد نے کہا میں نے بڑے بڑے کاہنوں اور جادوگروں کا کلام سنا ہے شعراء کو بھی سنا ہے لیکن ایسا پر تاثیر کلام میں نے کبھی کسی سے نہیں سنا جیسا آپ نے سنا ہے۔ یہ تو سمندر کی گہرائی تک اتر جانے والا کلام ہے ہاتھ بڑھایا اور کہا میری بیعت لیجئے چنانچہ وہ اسی وقت آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے مسلمان ہوا ۔ یہ کلمات تو روز مرہ آپ سنتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کہنے والا کون ہے اور پڑھنے والا کون ہے کلمات اپنی ذات میں زندہ بھی ہو سکتے ہیں اور مردہ بھی ہو سکتے ہیں یہ تو برتن ہیں ، ان برتنوں کو کس چیز سے بھرا گیا ہے۔ پس ویسے ہی کلمات وہی کلمات ایک ایسا شخص جو دل سے ان کے مضامین میں ڈوبا ہوا ہو پڑھے تو اس کا کچھ اور اثر ہوتا ہے اگر کوئی سرسری طور پر ظاہری زبان سے پڑھتا ہے تو اس کا کوئی اور اثر ہوتا ہے۔