خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد ۱۲ 601 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء کلام پڑھنے والے، خواہ نثر پڑھتے ہوں یا نظم پڑھتے ہوں، ان کی طاقت کا راز دان ان کے دل کی سچائی میں ہے۔اگر وہ جان ڈال کر ایک کلام کو پڑھتے ہیں اور اپنے وجود پر اس کا مضمون طاری کر کے پڑھتے ہیں تو اس سے غیر معمولی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔پس توحید کا اعلان اس شان کے ساتھ کریں جس شان سے اقدس محمد رسول اللہ صلی للہ نے آپ کو توحید کے اعلانات کر کے دکھائے اور یہی بظاہر سادہ سے کلمات ہیں جن میں عظیم طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور ہو جائے گی۔ایک موقع پر آنحضرت ﷺ کی دعا کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ یہ دعا مانگا کرتے تھے گویا آپ کا یہ دستور تھا۔یہ دعا آپ کو پسند تھی۔”اے اللہ میں تیری فرمانبرداری کرتا ہوں تجھ پر ایمان لاتا ہوں تجھ پر تو کل کرتا ہوں۔تیری طرف جھکتا ہوں تیری مدد سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہوں۔اے میرے اللہ میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں تو مجھے گمراہی سے بچا۔تو زندہ ہے تیرے سوا کسی کو بقا نہیں۔جن وانس سب کے لئے فنا مقدر ہے۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر : ۴۸۹۴) جس توحید کا میں نے ذکر کیا تھا وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی تخلیق پر منتج ہوتی ہے۔وہ ایسا عظیم الشان جز پیدا کرتی ہے کہ جتنا زیادہ توحید کا مقام بلند ہوتا چلا جاتا ہے اتناہی زیادہ وہ موحد بجز کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے یا بجز کی سرزمین پہ خاک بن کے بچھ جاتا ہے۔یہ دیکھیں آنحضور یہ کی دعا میں بار بار اس کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ کس طرح تو حید نے آپ کو خدا کا سب سے عاجز بندہ بنا دیا۔جب ہم کہتے ہیں کہ آنحضور ﷺہ انسانوں میں سب سے ارفع ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ سب سے زیادہ عاجز تھے کیونکہ آنحضور یہ ہی نے ایک موقع پر فرمایا ﷺ اذا تواضع العبد رفعه الله الى السماء السابعة بسلسلة۔(کنز العمال،جلد۳صفحہ:۱۷۷) یہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا آپ کو فرمایا ہے کہ جب میرا کوئی بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو میں اس کا ساتویں آسمان تک رفع کرتا ہوں۔اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ عاجزی کی حد اس کے رفع کی حد مقرر کرتی ہے۔جتنا جھکتا ہے اتنا ہی بلند تر آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔بسلسلة کے الفاظ نے اس مضمون کو کھول دیا۔زنجیر کڑیوں سے بنی ہوتی ہے۔پس جس کڑی تک کوئی انسان خدا کے