خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد ۱۲ 591 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء اسی طرح کینیڈا شمال اور مغرب کی انتہا میں واقع ہے۔تو یہ سارے ممالک اور ان کی دلچسپیاں جو جماعت کے گرد گھوم رہی ہیں وہ ایک مرکز کی شکل میں خلیفہ وقت کی ذات میں اکٹھی ہوتی ہیں اور پھر ساری دنیا کے دلوں میں دھڑکتی ہیں۔اسی لئے میں نے دل کا لفظ استعمال کیا تھا کہ یہ ساری تقریبات جماعت کے دلوں میں داخل ہوتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا بے شمار احسان ہے اتنے فضل ہیں کہ اگر ان کا تصور کریں تو انسان خدا تعالیٰ کے شکر سے اپنے آپ کو کلیۂ عاجز محسوس کرتا ہے لیکن شکر جتنا بڑھے گا اتنے ہی فضل زیادہ نازل ہوں گے۔اسی ضمن میں اس سال کے جلسہ سالانہ سے متعلق بھی چند باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ جلسہ خدا کے فضل سے غیر معمولی تھا۔یہ تو سب کو خیال تھا کہ غیر معمولی ہوگا۔لیکن اتنا غیر معمولی یہ تو میرے تصور میں بھی نہیں تھا۔عالمی بیعت کے سلسلہ میں سب دنیا سے فون آ رہے ہیں اور Faxes مل رہی ہیں۔ایک بچی نے جو میری بیٹی عزیزہ مونا کی شادی میں شامل ہونے کے لئے یہاں آئی تھی فون کر کے کہا کہ میں ساری رات روتی رہی آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ اتنا اہم جلسہ ہے۔میں نے کہا، میں نے تو شادی سے پہلے اعلان کیا تھا، تنبیہ کی تھی کہ عزیزہ مونا کی شادی میں شمولیت ہر گز ضروری نہیں۔جلسے میں شمولیت ضروری ہے اگر آپ نے شامل ہونا ہے تو اس شرط پر شامل ہوں کہ جلسے کو قربان کر کے شامل نہیں ہونا اس کے باوجود اگر غلطی کر گئے ہیں تو میں اور کس طرح سمجھاؤں۔میں نے اس بچی سے کہا کہ میں اشٹام پیپر پر لکھ لکھ کے تو نہیں دے سکتا کہ فلاں چیز اتنی اہم ہے۔اب مجبوری ہے، بہر حال خدا تعالیٰ نے فضل کیا کہ ایک عالمی نظارے کی صورت میں جماعت نے ہر جگہ دیکھ لیا لیکن جو کیفیت شامل ہونے والوں کی تھی اس کا بیان ممکن نہیں۔یوں لگتا تھا کہ اللہ اترا ہوا ہے اور فرشتوں کی فوجیں نازل ہو رہی ہیں۔ایک ایسی روحانی کیفیت تھی کہ اس کا تصور بھی باہر والا انسان نہیں کر سکتا حالانکہ ٹیلی ویژن پر سب کچھ دکھایا گیا اور احمدی بہت محظوظ ہوئے ہیں لیکن بیچ میں ہونا اور بات ہے اور باہر سے دیکھنا اور بات ہے۔یہ جلسہ تمام وحدت کا ایک عظیم نشان تھا۔اس جلسہ میں شامل ہونے والے مشرق و مغرب، شمال و جنوب سے آنے والے ایک دوسرے کو قومیت کے اختلاف کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔مختلف ممالک کے باشندوں کے طور پر نہیں دیکھتے تھے۔بلکہ براہ راست روحوں کاروحوں سے ملاپ ہور ہا تھا۔بیچ میں سے جسم غائب ہورہے تھے۔