خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 590
خطبات طاہر جلد ۱۲ 590 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء محنتوں کا پھل ہے جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کیا ہے۔یہ ایک بڑا جزیرہ ہے جس کی آزاد ریاست ہے۔اس میں ماریشس کی جماعت کی کوششوں سے خدا کے فضل سے چند سال پہلے جماعت احمدیہ کا پودا لگا اور اب خدا کے فضل سے بہت مستحکم ہو چکا ہے۔حال میں جو عالمی بیعتوں کا پروگرام تھا۔اس میں بھی روڈ ریکس کی طرف سے خدا کے فضل سے بھر پور شمولیت ہوئی۔ان کا پہلا جلسه سالانه ۱۸ اگست کو ہو رہا ہے۔لیکن ان کی خواہش یہ ہے کہ ۶ راگست کے جمعہ میں ان کا ذکر کر دیا جائے اور وہی ان کا افتتاح سمجھا جائے۔جماعت احمدیہ کینیڈا کی دوسری مرکزی تعلیم القرآن کلاس کی تاریخ ۶ راگست تا ۱۵ اگست مقرر ہوئی ہے اور ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ آج کے خطبے کے ساتھ ان کی کلاس کا آغاز ہو۔دنیا میں ہونے والے یہ مختلف جلسے اور اجتماعات اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت احمد یہ کی عالمی دلچسپیوں کا ایک ایسا مرکزی نقطہ بنتے چلے جا رہے ہیں جو خلیفہ وقت کی ذات میں منعکس ہو کر مرکز بن جاتا ہے اور پھر اس کا انتشار ہوتا ہے۔اس لئے اگر چہ یہ پھیلے ہوئے اجتماعات ہیں لیکن ان کو میں نے مرکزی نقطہ قرار دیا کیونکہ اس سے پہلے یہ ممکن نہیں تھا کہ میں دنیا میں ہونے والے اجتماعات میں ہر جگہ براہ راست شمولیت کر سکوں اور وہ براہ راست ساری دنیا کی عالمگیر جماعت کے دل میں اتر رہے ہوں لیکن اب خدا کے فضل سے یہ ممکن ہو گیا ہے اور دن بدن یہ سلسلے پھیلتے چلے جائیں گے اور یہ بھی تو حید ہی کا ایک کرشمہ ہے۔در حقیقت یہ توحید کا وہی مضمون ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔وہ جماعت جو خالصہ اللہ ہو ، جو خدائے واحد و یگانہ پر کامل ایمان رکھتی ہو، ہر دوسری چیز اس کی نظر میں خدا کی وحدت کے مقابلہ میں پیچ ہو اور بے حقیقت ہو اس پر خدا کا فضل اس طرح نازل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس جماعت کو بھی ایک وحدت میں تبدیل فرما دیتی ہے اور اللہ ہی کا تعلق ہے جو ایک عالمگیر وحدت کی شکل میں رونما ہوتا ہے ورنہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اس طرح اپنے قریب پائیں حالانکہ ہمارے درمیان ظاہری فاصلے بھی بے شمار ہیں اور بعض دوسرے فاصلے بھی بیشمار ہیں۔ظاہری فاصلوں سے یہ مراد ہے کہ آج انگلستان میں جو خطبہ دیا جا رہا ہے۔روڈ ر گس آئی لینڈ جو انتہائی جنوبی علاقہ میں واقع ہے اس کا اور ملائشیا کا آپس میں کتنا فاصلہ ہے اور ہمارے ساتھ پھر کتنا فاصلہ ہے۔