خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 592 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 592

خطبات طاہر جلد ۱۲ 592 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء امر واقعہ یہی ہے کہ اس چیز کو غیروں نے محسوس کیا ، ان غیروں نے جو پھر جلد اپنے بن گئے انہوں نے بشدت محسوس کیا۔افریقہ کے ایک بہت معزز دوست جو پہلے عیسائی تھے اور کٹر عیسائی تھے یعنی کیتھولک عیسائی اور بڑے جوش کے ساتھ عیسائیت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے انہوں نے کہا کہ ایک چیز میری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔آپ جو بات کہتے تھے یوں لگتا تھا وہ دل سے نکلی ہے اور سیدھی دل میں اتر گئی ہے اور جو عالمی منظر تھا اس میں کوئی جغرافیائی قید نہیں تھی ، ہر شخص ایک دوسرے کی روح کے ساتھ ملا ہوا تھا۔کہتے ہیں یہ دو باتیں ایسی ہیں جو دنیا میں کہیں اور دکھائی نہیں دے سکتیں اور واقعہ ان کا یہ تجزیہ بالکل درست تھا میں نے ان سے کہا آپ نے بالکل سچی بات کہی ، بڑے ذہین ہیں۔بعینہ یہی دو کیفیات تھیں جن کو میں نے نمایاں طور پر محسوس کیا اور جہاں تک دوسروں سے تعلق کا سوال ہے ان کو میں نے سمجھایا کہ جماعت احمدیہ کا مزاج یہ ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا پھل اور احسان ہے اور اس کا کرشمہ ہے اور اس کا فضل ہے کوئی قوم جو بچے معنوں میں موحد ہو جائے ناممکن ہے کہ جغرافیائی اور قومی تقسیمیں ان کو اور اس قوم کی وحدت میں پروئے جانے والوں کو ایک دوسرے سے الگ کر سکے بلکہ جب میں مثلاً افریقہ یا دوسرے ممالک میں دورہ پر جایا کرتا تھا تو واقعہ کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی احساس نہیں ہوا کہ یہ نائیجرین ہے اور میں پاکستانی ہوں۔یہ سیرالیونی ہے اور میں پاکستانی ہوں۔یہ کینیڈین ہے اور میں پاکستانی ہوں یہ فنجنین ہے اور میں پاکستانی ہوں نہ کبھی اپنی پاکستانیت کا واہمہ بھی دل میں آیا، نہ ان کے مختلف قوموں سے منسوب ہونے کے تصور نے کبھی دل میں جھانک کے دیکھا بالکل یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک خدا کی پیدا کردہ روحیں ہیں جو ملاپ کر رہی ہیں، نہ بیچ میں جسم حائل، نہ رنگ حائل، نہ قومیت حائل۔تو ان کو میں نے سمجھایا کہ یہ احمدیت کی سچائی کا نشان ہے اور اس کا بات نشان ہے کہ احمدی موحد ہیں کیونکہ اگر خدائے واحد پر سچا یقین ہے تو اس کے سوا اور کوئی نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا اور سوائے ایسی جماعت کے جو توحید پرست ہو اور خالصہ توحید پرست ہو کوئی دنیا کو امت واحدہ میں تبدیل نہیں کر سکتا۔پس خدا تعالیٰ نے جو احسانات ہم پر فرمائے۔”لفظ فرمائے جو ماضی کا ذکر ہے یہ غالبا مناسب نہیں جو فرما رہا ہے، فرماتا چلا جا رہا ہے اور دن بدن ان کو پڑھاتا چلا جا رہا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب تو حید ہی کا کرشمہ ہے۔اگر ہمارے دل موحدر ہیں ان معنوں میں جن معنوں میں حضرت اقدس محمد صنفی میں لینے کا مصطفا صلى الله