خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 55

خطبات طاہر جلد ۱۲ 55 55 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء کے کئی پہلو ہیں۔میں اقتصادی پہلو سے بات کر رہا ہوں یعنی نظام کے اقتصادی پہلو کے لحاظ سے اس نظام نے لازماً نا کام ہونا ہی تھا اور جب ایک اقتصادی نظام ناکام ہو اور اس کی بنیادی وجہ نظام چلانے والوں کی بڑھتی ہوئی بد دیانتی ہو تو جتنی غربت ملک میں بڑھتی ہے اتنا ہی بدیانتی کا معیار ملک میں اونچا ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کی سطح بلند ہوتی چلی جاتی ہے یہ بھی ایک قاعدہ کلیہ ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا پس روس کے المیہ کا خلاصہ یہ ہے۔ہم روس کی دو طرح سے خدمت کر سکتے ہیں۔ایک اقتصادی بحالی کے ذریعہ جتنی بھی جماعت کو توفیق ہے۔جماعت روس کے معاملات میں دلچسپی لے کر اور ان کے اقتصادی حالات کو سنبھالنے کے لئے حتی المقدور کوشش کر کے روس کی مدد کر سکتی ہے دوسرا اخلاقی تعلیم کے ذریعہ یہ سمجھا کر کہ آپ کی طاقت کا راز آپ کی اخلاقی قوت میں ہے۔اگر آپ اخلاقی طور پر اپنی اصلاح کرلیں اور عالمی نوعیت کے اسلامی اخلاقی اصولوں پر قائم ہو جائیں۔اسلام منظور ہو یا نہ ہولیکن اسلام کے اخلاقی اصول عالمی نوعیت کے ہیں وہ مقامی حیثیت کے ہیں ہی نہیں ، ان کا جغرافیائی حدود سے کوئی تعلق نہیں جو تعلیم ہے عالمی نوعیت کی ہے، پس اسلام کا نام تو لیں مگر یہ بتا کر ہم اسلام کی اس تعلیم کی بات کر رہے ہیں جو عالمی نوعیت سے تعلق رکھتی ہے وہ سب ملکوں پر یکساں اثر کرے گی اور ہر ملک کو یکساں قابل قبول ہونی چاہئے۔یہ سمجھا کر ان کی اخلاقی بہتری کیلئے کوشش کریں ان کی راہنمائی کریں ، ان کو اخلاقی اصول بتائیں، میرا تجربہ یہ ہے کہ روس میں اس وقت غیر معمولی طور پر اچھی بات سن کر قبول کرنے کی صلاحیت ہے وہ سچی بات کو سچ ہی مانتے ہیں اور جتنا مرضی مخالفانہ دباؤ ہو وہ سچ کے مقابل پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرتے۔احمدیت کا پیغام ہم نے جن علاقوں میں پھیلایا ہے خدا کے فضل کے ساتھ وہاں کا رد عمل اتنا صحت مند اور اتنا حیرت انگیز ہے کہ دل حمد سے بھر جاتا ہے اور خدا کے شکر سے آنکھیں بہنے لگتی ہیں ابھی روس سے ایک وفد واپس آیا ہے ان کی رپورٹ یہ تھی کہ ہم جہاں جہاں گئے ہیں وہاں احمدیت کے پیغام کو انہوں نے برحق قرار دیا اپنے لئے اچھا مفید جانا اور کھل کر اظہار کیا یہاں تک کہ ایک ملک کے نائب پریذیڈنٹ نے باقاعدہ ٹیلی ویژن پر یہ اعلان کروایا کہ یہ احمدیت کا پیغام ہے ہم اس کو قبول کرتے ہیں۔یہ سچا ہے اور ہم احمدیوں کو کھلے بازؤوں سے دعوت دیتے ہیں کہ آئیں اور اس ملک میں انسانیت کی خدمت کریں اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ