خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 54
خطبات طاہر جلد ۱۲ 54 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء جاتا تھا تو اس وقت بھی یہ روس کا ہی فیض تھا کہ غریب ملکوں کو سانس لینے کی آزادی ملی ہوئی تھی چھوٹے ہو کر بڑوں کو للکارنے کی طاقت تھی۔یہ توفیق تھی کہ اگر ان پر ظلم ہوں تو دنیا میں علی الاعلان کہیں کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے اور روس کی حمایت کا ہوا تھا جو بڑی بڑی طاقتوں کو امریکہ کو اور یورپ کی طاقتوں کو اپنے مقام پر رکھا تھا، ان کی مجال نہیں تھی کہ اپنے مقام سے ہٹ کر آگے بڑھ کر کسی پر مزید ظلم کر سکیں ظلم کے ہاتھ جو چل پڑتے تھے اور وہ تیر جو کمانوں سے نکل چکتے تھے ان کو بھی واپس لے لیا جا تا تھا۔مصر میں کیا ہوا اس کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔سویز کنال کے جھگڑے کے وقت کیا قصہ ہوا اور بعد میں کیا کارروائیاں ہوئیں ان کی تفصیل بتانے کا وقت نہیں لیکن دنیا کے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو یاد ہوگا اور جن کو یاد نہیں وہ ایک دوسرے سے پوچھ لیں۔اب مثلاً پاکستان، میں ہر ایک کو میں ساری تفصیل تو نہیں بتا سکتا لیکن جمعہ کے بعد باتیں ہوں گی تو ایک دوسرے سے پوچھیں کہ کیا ہوا تھا تو وہ آپ کو بتادیں گے کہ کیا کارروائی ہوئی تھی۔امریکہ جھک گیا، ہمغرب جھک گیا، مجبور ہو گئے اور امریکہ روس سے جھکا اور امریکہ نے خود جھک کر یورپ کو جھکایا اور اسرائیل کو جھ کا یا اور وہ ظالمانہ کارروائی جو مصر کے خلاف کی گئی تھی اُسے واپس لینے پر مجبور کر دیا تو یہ واقعات کیوں ہوتے تھے روس کا احسان تھا۔پس یہ احسان بالا رادہ تھا یا حالات کے تقاضوں کے نتیجہ میں خود بخود ظاہر ہور ہا تھا لیکن احسان احسان ہی ہے، دنیا کو ایک قسم کا امن نصیب تھا وہ امن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔اس لئے اپنے اس محسن کو دعاؤں میں یا درکھیں ، دعائیں کریں کہ پھر خداروں کو ایک عظیم طاقت بنادے لیکن ایسی طاقت بنائے جو اپنے ملک کے باشندوں کے لئے بہتر ثابت ہو اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے باشندوں کے لئے بھی بہتر ثابت ہو ، یہ ایسی طاقت بن کر ابھرے جو اسلام کے اس اصول کو سینے سے لگا کر اٹھے کہ ہم نے عالمی عدل قائم کرنا ہے اور مظلوموں کی حمایت کرنی ہے اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔اس ضمن میں میں نے جوتحریکات پہلے کی کیں ہیں ان میں سے ایک تحریک میں آخر پر آپ کو یاد کرواتا ہوں اور خطبہ کا بقیہ حصہ جو میرے نوٹس میں ہے وہ انشاء اللہ آئندہ بیان ہوگا میں آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ روس کے نظام کی ناکامی میں صرف اشترا کی فلسفے کو دخل نہیں تھا روس کی طاقت اس لئے ٹوٹی ہے کہ اس نظام کی حفاظت کرنے والے دیانتدار نہیں رہے تھے اور نظام کے لحاظ سے اس