خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد ۱۲ 56 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء انہوں نے ہر جگہ اس بات کا ذکر کیا کہ ہم وہ قوم نہیں ہیں جو سعودی یا کسی اور پیسے سے خریدی جائیں ان سعودی کوششوں کے خلاف شدید رد عمل ہے کہ جہاں مولویوں کو پیسے دے کر ان کو خریدنے یا مدرسوں کو خریدنے یا مسجدوں کے لئے تعمیری رقم دے کر مسجدوں کے متولی بننے کی کوششیں کی گئی ہیں اور روس کی نفسیات اس وقت صاف بتارہی ہے کہ وہ بعض اندھیروں سے روشنی میں آرہے ہیں اور بعض روشنیاں جو انہوں نے ان اندھیروں میں خود حاصل کی ہیں اور انسانی تجارب سے کمائی ہیں ان کو اپنے سینے سے لگائے رکھا ہے ان کو نہیں چھوڑا۔پس یہ وہ نفسیاتی کیفیت ہے جس میں ہر اچھی بات قبول کرنے کی صلاحیت ہے میں نے روس کو مخاطب کرتے ہوئے اوپر تلے تین مضامین لکھے ہیں اور اس کا رد عمل یہ تھا کہ بعض مضامین سب سے زیادہ وسیع الاشاعت اخباروں نے خود شوق سے شائع کئے ، اجازت لے کر شائع کئے بعض لوگوں نے وہ مضمون اپنے طور پر کتابی صورت میں شائع کر کے آگے تقسیم کئے بعض ٹیلی ویژنز پر وہ مضامین سنائے گئے اور ابھی آخری پیغام جو میں نے بھیجا ہے اس کے متعلق بھی مجھے بتایا گیا ہے کہ ٹیلی ویژنز کے ذریعہ یہ پیغام سارے ملک میں نشر کیا جائے گا جو خصوصا مخاطب تھا۔ویسے تو ساراروس ہی مخاطب ہے یعنی سارا USSR تو انشاء اللہ تعالیٰ ان لوگوں میں نیکی اور سچائی کو قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے خدمت کے بہت مواقع ہیں دوسرے اقتصادی لحاظ سے وہ سخت بے چینی کی حالت میں ہیں ان کے پاس بہت قدرتی دولتیں ہیں جن کو حقیقت میں صحیح رنگ میں استعمال نہیں کیا گیا اور وہ اسی طرح کھلی پڑی ہوئی ہیں کوئی انسان آئے اور ان سے فائدہ اُٹھائے لیکن وہ ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں Exploiter یعنی کسی کی کمزوری اور غربت سے فائدہ اٹھانے والی امیر قو میں آکر یہ نہ کریں ہمیں اور ہی لوٹ مار کر ہماری دولتیں ٹوٹ کر باہر ملکوں میں بھیجنا شروع کر دیں۔اس مشکل کا بہترین حل جماعت احمدیہ ہے جو ہر قسم کے ظلم وتشد داورٹوٹ مار کے بنیادی طور پر مخالف ہے۔پس میں پھر جماعت کے تاجروں کو دعوت دیتا ہوں کہ ازبکستان، قازکستان، ادھر تا تارستان اور اس قسم کے جتنے بھی علاقے ہیں مسلمانوں کے، ان میں جائیں اور کثرت کے ساتھ خود ذاتی دورے کریں تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ کتنے مواقع ہیں۔ان مواقع سے فائدہ اٹھا ئیں وہاں کارخانے بنا ئیں، لیکن ایک نیست خدا کے لئے لے کر جائیں ان قوموں کو لوٹنے کی