خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد ۱۲ 575 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۹۳ء محمد مصطفی میں ہی کی طرف لوٹ جاتا اور واپس اس زمانے میں پہنچ جاتا جو آپ کا زمانہ تھا۔دوسرا یہ کہ مجد دیت محمد ود قوموں اور محدود علاقوں میں کارفرما رہی ہے کل عالم پر محیط کبھی نہ ہوسکی۔آج تک تاریخ اسلام میں ایک بھی ایسا مجدد ظاہر نہیں ہوا جس نے خود یہ دعویٰ کیا ہو یا جس کے متعلق اس کے ماننے والوں نے یہ دعویٰ کیا ہو دیکھو یہ مجدد کل عالم کی تجدید کے لئے آیا۔پس ایک ایک مجدد کی یا ان لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے جن کو بعض فرقوں نے مجدد کہا اور بعض نے ان کا انکار کیا، بعض ایسے ہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوئے ، بعض عرب کے علاقوں میں پیدا ہوئے ، بعض ایران میں پیدا ہوئے بعض افریقہ میں پیدا ہوئے ، بعض چین میں بھی پیدا ہوئے۔غرض کہ مختلف ادوار میں مختلف مجدد کہلانے والے پیدا ہوتے رہے لیکن کل عالم اسلام نے ان کو تسلیم نہیں کیا بلکہ بھاری اکثریت کو تو ان کی خبر تک نہیں پہنچی پھر وہ عالمی تجدید کیسے ہوگی ؟ جس کا گہرا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ کے عالمی پیغام سے ہے۔جب پیغام عالمی ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے تو تجدید بھی تو عالمی حیثیت سے ہونی چاہئے اور اگر سابقہ تجدید کی کوششیں مسلمانوں کے رخ کو اس طرح پلٹا نہ سکیں کہ وہ تیزی کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے زمانے میں داخل محمد مہ ہوتے جو حقیقت میں کامل امن کا زمانہ ہے جو اسلام کی تمام خوبیوں پر محیط ہے اور کفر کی سب بدیوں سے محفوظ ہے۔اس زمانے تک عالم اسلام کو پہنچانے کا کیا انتظام ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا ان آیات کریمہ میں جواب دیا گیا ہے۔وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ دیکھو م مال کا خدا ایسا خدا ہے جس نے دور کے زمانوں پر بھی نظر رکھی۔وَأَخَرِيْنَ میں ایک ایسی قوم کو واپس اس زمانے میں کھینچ لائے گا جو محمد مصطفی امیہ کا زمانہ ہے اور ان دور کے زمانے میں پیدا ہونے والوں کو ان پہلوں سے ملا دے گا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے جو چار بنیادی کام بیان فرمائے گئے ہیں اور بنیادی صفات بیان فرمائی گئی ہیں۔ان تمام کاموں اور صفات کا دور دورہ اس زمانے میں ہوگا اور وہ تحریک عالمی ہوگی ورنہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے ساتھ اس کو کوئی نسبت نہیں ہو سکتی۔آپ کا پیغام عالمی تھا اور آپ نے جو کام کئے۔ان سب خدمتوں پر مامور ایک ایسی جماعت ہی پرانے زمانے کے آنحضرت ﷺ کے صحابہ اور آپ کے تربیت یافتہ لوگوں سے ملنے کی مستحق ہو سکتی ہے جو ایک عالمی پیغام دنیا میں پھیلائے اور ان چاروں امور کو یعنی صلى الله