خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 546 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 546

خطبات طاہر جلد ۱۲ 546 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء دفعہ خلافت کو کیوں غیرت نہیں آتی، کوئی بات ہے اور خدا تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو ایسی فراست عطا کی ہوتی ہے کہ وہ نور اللہ سے دیکھتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اور اس کو پتا لگ جاتا ہے کہ کہاں رخنہ ہے اور کہاں نہیں اور بعد کے وقت پھر ہمیشہ خلیفہ کو سچا ثابت کرتے ہیں قطعی طور پر پتا چل جاتا ہے کہ ان لوگوں نے یہ بت بنایا ہوا ہے اور خلافت کی کوئی قدر نہیں اگر خلافت ان کو روکنے کی بھی کوشش کرے گی تو نہیں رکیں گے اور اس بت سے مانگیں گے۔جو انہوں نے گڑھ لیا ہے۔اس چیز کو کبھی جماعت میں پنپنے نہیں دیا جائے گا۔میں اس کا اعلان کرتا ہوں کیونکہ خدا نے ایک رنگ میں مجھے خصوصیت سے تو حید کا محافظ بنایا ہے آیت استخلاف کے نتیجہ میں آپ سب خدا کے خلیفہ ہیں مگر آپ سب نے اپنی خلافت کا خلاصہ خلافت احمدیہ کی شکل میں نکالا ہوا ہے اور یہ خلاصہ آپ سب پر نگران ہے اور آپ کا دل بن گیا ہے، آپ کا دماغ بن گیا ہے۔پس جہاں بھی مجھے شرک کا رخنہ دکھائی دے گا لازما میں اس کا قلع قمع کرنے کی پوری کوشش کروں گا مجھے کوئی بھی پرواہ نہیں کہ دنیا مجھے کیا کہے گی۔کیا مجھ پر بدظنیاں کرتی ہے اور مجھے پتا ہے کہ ایسے موقع پر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے خلفاء کی حمائت کی ہے اور اللہ کے فضل سے جماعت زیادہ سے زیادہ موحد ہوتی چلی جارہی ہے اور زیادہ سے زیادہ ان باتوں کا عرفان حاصل کرتی چلی جارہی ہے اس لئے ماضی میں جو ہوا اسے دہرانے نہیں دیا جائے گا۔یہ میں قطعی اعلان کرتا ہوں۔پس ساری جماعت یو۔کے میں بھی متنبہ رہے اب جلسہ کے دن بھی آرہے ہیں وہاں بھی مختلف ممالک سے لوگ آتے ہیں اور بعض دفعہ انسان ظاہر سے اتنا متاثر ہو جاتا ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن جہاں خلفائے وقت کی طرف سے تاریخ میں کھلم کھلا ایسے اظہارات ہو چکے ہوں اور بعض جگہوں سے خطرات کی نشاندہی کر دی گئی ہو وہاں اگر منہ مارو گے تو شرک پر منہ مارو گے، وہاں اگر منہ مارو گے تو منافقت کا اعلان کرو گے۔خلیفہ وقت سے بیعت کا تعلق قائم رکھتے ہوئے ایسا نہیں کر سکتے بیعتیں تو ڑو جہاں مرضی چلے جاؤ کوئی پرواہ نہیں۔ایک مرتد ہوگا تو خدا ہزاروں صالح نیک بزرگ عطا کرے گا، موحد عطا کرے گا۔دنیا کو بہر حال ہم نے تو حید سے بھرنا ہے اور تو حید کی حفاظت ہر سطح پر کرنی ہے۔اس لئے اس عہد بیعت خلافت پر اس عرفان کے ساتھ قائم ہوں جو میں آپ کے سامنے کھول کر بیان کر رہا ہوں۔یہ عرفان ہم نے قرآن اور سنت اور تاریخ