خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 545

خطبات طاہر جلد ۱۲ 545 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء ہوں یہ ایک فتنہ ہے، ایک بت کھڑا کیا گیا ہے اور اسے کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا اگر لوگوں کو ڈر ہے کہ اس سے علیحدگی خدا کے عذاب پر منتج ہو گی تو میں اس عذاب کے لئے حاضر ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایسا کوئی عذاب نہیں۔پس کہاں یہ کہ صحابہ کرام میں سے حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ہحضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی وغیرہ وغیرہ کے دروازوں پر لوگ جوق در جوق حاضر ہورہے ہیں ، دونوں ہاتھوں سے سلام کرتے اور پیار کرتے اور ان سے خیر کے لئے دعا طلب کرتے ہیں اور حضرت مصلح موعود کا دل خوش ہوتا اور بڑھتا اور پھولتا اور پھلتا ہے اور ان کو اور بھی زیادہ اپنی حمایت اور محبت عطا کرتے ہیں اور کجا یہ کہ سندھ کے ایک گاؤں میں بیٹھا ہوا ایک شخص اپنی بزرگی کا دعوی کر رہا ہے، جبہ اور دستار پہن لی ہے اور لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہوں تو اتنا شدید رد عمل کے گویا کہ ساری جماعت میں ایک فتنہ وفساد بر پا ہو جائے گا۔وہ غیرت دراصل توحید کی غیرت تھی۔حضرت مصلح موعود جانتے تھے کہ وہ محبت مطیع محبت ہے، وہ جماعت میں رخنہ پیدا نہیں کرے گی بلکہ ایسی محبتیں جماعت کو ایک دوسرے سے اور زیادہ قریب کرتی ہیں۔ان بزرگوں کے رستے وحدت کی بڑھ رہی ہے نہ کہ افتراق پیدا ہورہا ہے لیکن جہاں آپ نے افتراق کی بو بھی پائی آپ نے شیروں کی طرح بڑی شدت سے اس پر حملہ کیا ہے اور پھر ایسے لوگوں کی محبت جو یہ دعوئی کرتے ہیں کہ ٹھیک ہے خلیفہ کی بیعت ہے لیکن یہ بھی بزرگ ہے اس سے بھی محبت ہے وہ ٹنگی ہو جاتی ہے۔جب خلیفہ وقت اپنی ناراضگی کا اظہار کر دے تو پھر بھی یہ تعلق رکھتے ہیں اور صرف مخفی تعلق نہیں بلکہ ڈیفنس کرتے ہیں مساجد میں کھلم کھلا اجتماعات پر لائنز لگالگا کر بزرگی کے اعتراف کرتے ہیں اور لوگوں کو کہتے ہیں کہ آؤ اور اس بزرگ سے ملو۔یہ چیز ان کا قطعی جھوٹ ثابت کر دیتی ہے اور بتا دیتی ہے کہ ان کے دل میں دراصل ایک بت پیدا ہوا ہے اور خلافت کی بیعت تو ایک دکھاوا ہے، نفاق کی ایک شکل ہے۔جماعت سے الگ نہیں ہونا چاہتے اس لئے بیعت ہے ورنہ دل میں ایک اور خلیفہ کا بت بن گیا ہے۔یہ جو شرک ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔یہ شرک فی الخلافہ ہے یہ بھی انتہائی مہلک نتیجہ پیدا کر سکتا ہے اور کرتا ہے اور اس کے خلاف جماعت کو لازماً نگران ہونا پڑے گا۔وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا یہ بھی تو بزرگ ہیں ان کو یہ نہیں پتا کہ اور بے شمار بزرگ ہیں ان کی