خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 547

خطبات طاہر جلد ۱۲ 547 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۳ء اسلام کے مطالعہ سے حاصل کیا ہے اور آج کے دور میں حضرت مصلح موعودؓ کے دور نے خصوصاً ان باتوں کو خوب کھول کھول کر اور نتھار کر ہمارے سامنے واضح کر دیا ہے۔پس یاد رکھیں کہ آپ کی وحدت خلافت سے وابستہ ہے اور امت واحدہ بنانے کا کام خلافت احمدیہ کے سپرد ہے اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا میں خدا کی قسم کھا کر اس مسجد میں اعلان کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلام امت واحدہ بنانے کا کام خدا تعالیٰ نے اس دور میں خلافت احمدیہ کے سپر د کر دیا ہے جو اس سے تعلق کاٹے گا وہ امت واحدہ سے اپنا تعلق توڑے گا اس کی کوئی کوشش خواہ نیکی کے نام پر ہی کیوں نہ ہو بھی کامیاب نہیں ہوگی۔پس خدا کے واضح اعجازی نشانوں کے ذریعہ جو بات ثابت ہو چکی ہے اس کو دیکھ کر آپ اپنی آنکھیں بند کر کے کہاں جائیں گے اس سے مضبوطی سے چمٹ جائیں اور اس میں کوئی خطرہ نہیں۔اس وفا کے اندر آپ کی خدا سے وفا ہے، حضرت محمد مصطفی ﷺ سے وفا ہے، حضرت مسیح موعود سے وفا ہے کیونکہ خلیفہ اپنی ذات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔آپ سے بہت بڑھ کر اپنے گناہوں کو جانتا ہے، اپنی عاجزی کو جانتا ہے مگر جانتا ہے کہ جس منصب پر وہ فائز کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس منصب میں غیرت رکھتا ہے اس مضمون کو سمجھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر کا مزید عرفان حاصل ہوتا ہے کہ اے آنکہ سوئے بدویدی بصد تبر از باغبان بنترس که من شاخ متمرم (درشین فارسی:۱۰۶) کہ اے بیوقوف تو جو میری طرف تبر لے کر حملہ آور ہو رہا ہے، جان لے کہ یہ شاخ جو میری شاخ ہے یہ مثمر ثمر دار ہے اور باغبان اس کو برداشت نہیں کرے گا پس خلافت احمد یہ وہ شاخ مشمرم ہے وہ مشمر شاخ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے توحید کے پھل لگانے کے لئے سبز وشاداب کر کے دنیا میں دوبارہ قائم کرنا ہے اس پر اگر آپ بری نیت سے حملہ کریں گے، اس پر اگر آپ بدظنی سے کام لیں گے تو اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے کیونکہ خدا ہے جو اس کی پشت پناہی پر کھڑا ہے اور وہ کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ خلافت کو دوبارہ دنیا سے مٹنے دے یہاں تک کہ وہ اپنے ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل کر لے کہ دنیا میں اصلى الله ایک ہی دین ہو اور وہ دین اسلام ہو اور تو حید ساری دنیا پر چھا جائے اور حضرت محمد مصطفی یہ آخری اور توحید دائمی نبی کے طور پر دنیا کو قبول ہو جائیں اللہ کرے۔ایسا ہی ہو۔آمین