خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 523
خطبات طاہر جلد ۱۲ 523 خطبہ جمعہ ۹ جولائی ۱۹۹۳ء ان میں سے چند احادیث آج کے خطبہ کے لئے چنتی ہیں بخاری، کتاب الایمان۔باب امور الایمان اور اسی طرح مسلم میں یہ حدیث ہے۔حضرت ابوزر سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان کی کچھ اوپر ستر یا کچھ اوپر ساٹھ شاخیں ہیں یہ جو کچھ اوپرستر اور کچھ اوپر ساٹھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ستر یا ساٹھ سے اوپر۔مراد یہ ہے کہ راوی جو بیان کرتا ہے وہ احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتا ہے کہ مجھے پوری طرح قطعی طور پر یاد نہیں کہ ستر ہی فرمایا تھایا ساٹھ فرمایا تھا لیکن میرا ذہن زیادہ ستر کی طرف مائل ہے۔اس لئے ستر کے عدد کو میں پہلے بیان کرتا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ ساٹھ فرمایا گیا ہو۔اس کو میں قطعاً خارج از امکان نہیں کرسکتا۔یہ نہیں کہہ سکتا کہ ساٹھ نہیں فرمایا تو یہ احتیاط کی طرز بیان ہے۔فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی کچھ و پرستر یا کچھ اوپر ساٹھ شاخیں ہیں۔ان میں سب سے افضل لا اله الا اللہ کہنا ہے اور ان میں سے کمتر راستے میں سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان ہی کی ایک شاخ ہے۔آنحضرت ﷺ نے جہاں ایمان کا ذکر فرمایا ہے وہاں بظاہر تو حید کی بات نہیں ہو رہی لیکن ایمان کا خلاصہ لا الہ الا اللہ میں بیان فرما دیا اور ایمان کی تمام شاخوں میں سب سے افضل شاخ لا اله الا اللہ کو قرار دیا اور جیسا کہ بعض دوسری احادیث پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ لا اله الا اللہ ہی کی وہ شاخ ہے جس کے سائے میں باقی سب شاخیں پل رہی ہیں وہ شاخیں دراصل اس ایک شاخ کے وجود کا حصہ ہیں۔پس ایمان کی ستر سے اوپر شاخیں ہونا اور ان میں سب سے افضل اور سب سے اہم لا الہ الا اللہ کا اقرار ہونا ثابت کرتا ہے کہ تو حید کو ایمان میں سب سے زیادہ مرکزیت اور سب سے زیادہ افضلیت حاصل ہے اس سے اوپر ایمان کی تعریف ممکن نہیں۔پھر فرمایا کہ اس کی کمتر شاخ تکلیف دہ چیزوں کا رستے سے ہٹانا ہے۔در حقیقت یہ بھی تو حید ہی کا پر تو ہے تو حید ہی کے نتیجہ میں ایمان رفتہ رفتہ بنی نوع انسان کی بھلائی میں تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔توحید ہی کے نتیجہ میں انسان کے انسان سے معاملات کی تعلیم ابھر کر سامنے آتی ہے اور پھر تو حید کی پرورش سے یہ پھولتی اور پھلتی ہے یہ مضمون بہت تفصیلی اور گہرا مضمون ہے۔بہت سے ایسے حوالے قرآن کریم میں اور احادیث میں موجود ہیں جن سے قطعی طور پر