خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 524
خطبات طاہر جلد ۱۲ 524 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء ثابت کیا جا سکتا ہے کہ توحید کی نشو ونما میں بنی نوع انسان کے تعلقات کی نشو ونما ہی نہیں بلکہ کل موجودات سے تعلقات کی نشو ونما کا مضمون ملتا ہے یعنی یہ سب چیزیں توحید سے وابستہ ہیں اور توحید چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات سے براہ راست تعلق کا نام ہے اس لئے سب سے بالا مضمون وہی ہے اور جوں جوں نیچے اترتے ہیں خدمت خلق کے کاموں میں آپ داخل ہوتے ہیں۔کچھ کام ایسے ہیں جو مثبت معنی رکھتے ہیں ، کچھ ایسے ہیں جو منفی معنی رکھتے ہیں۔مثبت معنوں میں ایسی خدمتیں کرنا جس کے نتیجہ میں قوموں کے اخلاق درست ہوں۔ان کے زندگی کے تمام پہلوؤں پر نیک اثرات مترتب ہوں اور پھر خوراک وغیرہ کے ذریعہ اور دوسری امداد کے ذریعہ انسانوں کی مدد کرنا، یہ سارے مثبت پہلو ہیں اور منفی پہلوؤں میں یہ ہے کہ قوم کو کسی کے شر سے بچایا جائے سب سے پہلے اپنے شر سے بچایا جائے۔پھر یہی قوم جو ہے یہ وسعت اختیار کر جاتی ہے۔تمام بنی نوع انسان اس تعلق میں داخل ہو جاتے ہیں اور تمام بنی نوع انسان کو انسان اپنے شر سے محفوظ رکھے تو یہ بھی تو حید ہی کی ایک شاخ ہے۔پھر اس سے آگے چل کر تمام جانور اس میں داخل ہو جاتے ہیں تمام ذی روح داخل ہو جاتے ہیں پھر منفی پہلو جو ہیں ان میں ہر چیز سے ان کا دکھ دور کرنے کی کوشش کرنا یا ایسی چیز دور کرنا جس سے کسی کو دکھ ممکن ہے۔یہ وہ پہلو ہے جس کو آنحضرت ﷺ ایمان کا سب سے ادنی پہلو بیان فرماتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں توحید کا سب سے ادنی پہلو بھی یہ بنتا ہے کہ ایسی چیز جس سے کسی کو تکلیف پہنچنے کا دور کا خطرہ ہو وہ بھی رستے سے ہٹا دو تا کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے پس اگر اس حدیث کے مضمون پر غور کریں تو ساری دنیا کی امن کی تعلیم کا خلاصہ اس حدیث میں بیان فرما دیا ہے۔صلى الله وہ غلام محمد مصطفی میں ہے جو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اتفاقاً رستے کا پڑا ہوا کانٹا کسی وجود کو چھ جائے خواہ وہ انسان ہو یا جانور ہو وہ یہ کیسے پسند کر سکتا ہے کہ اس سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف پہنچے اور وہ کسی کی دل آزاری کا گمان کیسے کر سکتا ہے۔جو کانٹے کو بھی پسند نہیں کرتا جو کہیں اتفاقاً پڑا ہوارہ گیا ہے یا رستے میں اگ گیا ہے کہ اس سے کسی چلنے پھرنے والے ذی روح کو تکلیف پہنچ جائے وہ یہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ میں کسی کی راہ میں کانٹے بودوں یا میرے وجود سے کسی اور وجود کو تکلیف پہنچ سکے۔پس یہ امن کے قیام کے لئے ایک عظیم تعلیم ہے جس کا عشر عشیر بھی دنیا کو معلوم نہیں ہے۔ان کے لئے یہ تصور ایسی بات ہے جیسے آسمان کی بلندیوں پر کوئی چیز اڑ رہی ہے جس تک آپ کی کوئی نظر نہیں، کوئی