خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد ۱۲ 522 خطبہ جمعہ 9 جولائی ۱۹۹۳ء جاتا ہے تو سب سے زیادہ واضح طور پر حضرت ابراہیم کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے کیونکہ آپ کے نام کے ساتھ حنیف کا مضمون قرآن کریم نے بڑی مضبوطی سے باندھ دیا ہے یہاں تک کہ ایک ہی وجود کے دو نام بن گئے ہیں، ابراہیم کہہ دیں یا حنیف کہہ دیں دونوں صورتوں میں ذہن حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منتقل ہوتا ہے۔پس تاریخی لحاظ سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نام ایک موحد کے طور پر پیش فرمایا گیا لیکن عملی تعلیم کی رو سے اور توحید کے اپنی تمام باریکیوں کے ساتھ ، تمام لطافتوں کے ساتھ انسان کے وجود میں جاری وساری ہونے کے مضمون کو حضرت محمد مصطفی مے کے حوالے سے پیش فرمایا گیا ہے۔اس پہلو سے اگر ہم اس مضمون پر مزید غور کرنا چاہتے ہیں تو لازماً ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور وہ دو طرح سے ہو سکتا ہے ایک یہ کہ توحید سے متعلق آپ کے ارشادات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے دوسرے تو حید کے نتیجہ میں آپ کا جو وجود ابھرا ہے، جو شخص قائم ہوا ہے اس پر غور کیا جائے اور تیسرے تو حید کے لئے جیسی محبت اور والہیت اور جیسا عشق آنحضرت میلے کے دل میں موجزن تھاوہ جہاں جہاں جلوہ گر ہے، جس وقت وہ جوش کے ساتھ ابلا ہے اور باہر دکھائی دیا ہے اور چھلکا ہے ان نظاروں کو دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ آنحضرت یہ کس مرتبے اور کس مقام کے مجاہد تھے اور تو حید آپ کے سینہ میں کیسے ایک سمندر کی طرح موجزن تھی۔یہ وہ پہلو ہیں جن کو احادیث کے حوالہ سے میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہ وہ مضمون ہے جو ایک خطبہ میں تو ختم نہیں ہو سکتا۔کچھ حوالے چھوڑتا جاؤں گا کچھ چن لوں گا اس طرح کوشش کروں گا کہ تھوڑے وقت میں اس کے تمام اہم پہلو آپ کے سامنے رکھ دوں کیونکہ اسی حوالے میں ہماری زندگی ہے۔حضرت محمد مصطفے ﷺ کے موحد ہونے کے حوالے میں ہمارے تمام تر مطالب اور تمام تر مقاصد داخل ہیں اور اسی سے ہم زندگی کا راز پاسکتے ہیں یہی وہ راہ ہے جو ہمیں موت سے بچا سکتی ہے، یہی وہ سر چشمہ ہے جس سے پانی پی کر ہم ابدی زندگی حاصل کر سکتے ہیں اور یہی وہ ایک سرچشمہ ہے جس کی طرف دنیا کے پیاسوں کو بلا کر ہم دنیا کی پیاس بجھا سکتے ہیں۔پس آنحضرت میہ نے توحید کا جو مضمون بیان فرمایا ہے اس میں سے چند پہلو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ یہ وہ مضمون ہے جو بہت وسیع ہے اور بڑی کثرت سے احادیث میں اس مضمون کا ذکر ملتا ہے۔میں نے