خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد ۱۲ 503 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء سیکھیں ، اپنی زبان کی طرح سے اسے اپنا ئیں اپنی مادری زبان کی طرح بولنا سیکھیں سمجھنا سیکھیں ، لکھنا سیکھیں کیونکہ جس ملک میں جو زبان بولی جاتی ہے جب تک اسے ذریعہ نہ بنایا جائے وہ ملک کوئی پیغام قبول نہیں کیا کرتا۔عربی ام الألسنۃ ہے اس لحاظ سے یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ عربی زبان ام الألسنۃ ہونے کے باوجود باقی ممالک میں نہیں سمجھی جاتی تو عربی کو اختیار کرنے کا کیا فائدہ؟ امر واقعہ یہ ہے کہ عربی سے الفاظ نکل کر باقی زبانوں میں رائج ہو گئے ہیں۔اس لئے اس کا مطلب صرف اتنا بنتا ہے کہ اگر کسی ایک زبان کو دنیا کی زبان بننے کا حق ہے تو وہ عربی ہے لیکن یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ہر جگہ جا کر یہ کہہ کر عربی بولنا شروع کر دیں کہ یہ الہامی زبان ہے ہم نے ضرور تمہیں عربی میں ہی تعلیم دینی ہے اور جن لوگوں کو عربی سمجھ نہیں آرہی ان پر اسلام ٹھونسنے کی کوشش کریں گے تو آپ کی ساری کوششیں بریکار جائیں گی کچھ سمجھ نہیں آئے گی۔وہی حال ہو جائے گا کہ ” آب آب کر مو یا بچہ فارسیاں کر گلے، پنجابی میں مشہور ہے کہ کسی کا ایک بچہ بے چارہ ایران چلا گیا تھا وہاں سے فارسی سیکھ کے آگیا اور ماں غریب پنجابن تھی اس کو فارسی کا ایک لفظ نہیں آتا تھا۔بچے کو بخار چڑھا اور شدید پیاس محسوس ہوئی وہ بار بار آب آب کرتا تھا۔آپ کا مطلب ہے پانی اور ماں بے چاری دیوانوں کی طرح کبھی ادھر دوڑتی تھی کبھی ادھر دوڑتی تھی کبھی کوئی چیز لاتی تھی کبھی کوئی چیز لاتی تھی مگر پانی نہ لاسکی اور اس حالت میں بچے نے دم تو ڑ دیا بعد میں جب اس نے اس بچے کا حال بیان کیا تو کسی نے کہا کہ وہ تو آب مانگ رہا تھا، پانی مانگ رہا تھا تو کہتے ہیں اس پر ماں نے بے ساختہ کہا کہ ” آب آب کر مو یا بچہ، فارسیاں کر گلے“ کہ میرا بچہ تو آب آب کرتا مر گیا فارسیوں نے تو میرا گھر اجاڑ دیا۔تو آپ پر وہ الزام نہ آئے کسی ملک کی طرف سے یہ الزام نہ آئے کہ پتا نہیں آپ کیا عربی بولتے رہے یا اردو بولتے رہے ہمارے تو گھر اجاڑ دئے۔ہمیں تو خدا کے پیغام سے محروم کر دیا اس آب سے محروم کر دیا جس میں ہماری زندگی تھی ہم نے ہمیں مرنے دیا اس وجہ سے کہ تم غلط زبان استعمال کرتے رہے۔یہ الزام آپ پر نہ آئے۔اس لئے مقامی زبان کی جو اہمیت ہے اس کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہ زبانیں سیکھیں گے تو آپ اس قابل ہوں گے کہ ان کی پیاس بجھاسکیں۔جہاں ان کو آب کی طلب ہو وہاں آب ان کو پیش کر سکیں اور اس طرح پیش کر سکیں کہ وہ ان کو قبول کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔پس زبانوں کے تسلسل میں جو آپس میں مراتب ہیں ان کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے جب کسی ملک میں