خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 502

خطبات طاہر جلد ۱۲ 502 خطبہ جمعہ ۲ / جولائی ۱۹۹۳ء کر کے دیکھ لیں وہاں آپ کو الہامی حصے بہت تھوڑے دکھائی دیں گے۔اسی طرح آپ وژند اوستا کا مطالعہ کر لیں اور گیتا کا مطالعہ کر لیں اور وید کا مطالعہ کرلیں۔امر واقعہ یہی ہے کہ تمام مذہبی کتابوں میں اکثر الفاظ اور اکثر محاورے انسانوں ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔البتہ مضمون اپنی ذات میں مقدس ہے۔بزرگ لوگوں کی روایات اور حکایتیں اکٹھی کی گئی ہیں اور اس میں الہامات بھی جڑے گئے ہیں۔واضح طور پر قطعی طور پر ان الہامات کی زبان پہچانی جاتی ہے کہ یہاں خدا بولا ہے اور خدا کا کلام ہے جسے محفوظ کرلیا گیا ہے۔پس اگر زبان کے لحاظ سے الہامی زبان کے حصے کو الگ کیا جائے۔یعنی الہاموں کو صرف اکٹھا کر لیا جائے اور باقی کتابوں کو چھوڑ دیا جائے تو مذاہب کی جو باقی کتابیں ہیں وہ سکڑ کر کچھ بھی نہیں رہیں گی۔میں نے اس پہلو سے جائزہ لے کے دیکھا ہے کہ عربی کے بعد خدا سب سے زیادہ اردو زبان میں ہم کلام ہوا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی پہلے نمبر پر عربی میں اور پھر اردو میں الہامات ہوئے ہیں اور اردو الہامات کی بھاری تعداد ہے۔پس حضرت مصلح موعودؓ نے اسی وجہ سے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ زبان بھی اب کبھی نہیں مرے گی اور احمدیت کی اشاعت کے ساتھ لازم ہے کہ یہ زبان پھیلتی چلی جائے کیونکہ الہامات کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کی اکثریت اردو میں ہے اور اگر چہ کلیۂ قرآن اور سنت اور حدیث پر مبنی مضامین بیان ہوئے ہیں اور آپ نے ایک شوشہ بھی اپنی طرف سے زائد نہ کیا لیکن جس زبان میں ان مضامین کو استعمال فرمایا ہے وہ اردو زبان ہے۔پس عربی کے بعد ہمیں سب سے زیادہ اہمیت اردو کو دینی چاہئے اور پھر تیسرے نمبر پر ہر ملک کی مقامی زبان ہے۔اس پہلو سے میں پہلے بھی جماعت کو نصیحت کرتا رہتا ہوں کہ آپ اپنے بچوں کو اردو بھی سکھائیں اور مقامی زبانیں بھی ضرور سکھائیں اور جہاں تک ان دونوں کے مقابلے اور موازنے کا تعلق ہے اس سلسلہ میں میں پہلے مضمون کو کھول کر واضح کر چکا ہوں لیکن چونکہ اب دوبارہ اس مضمون پر بات شروع ہے۔اس لئے اس خیال سے کہ کسی ذہن میں کوئی غلط فہمی نہ رہ جائے میں ایک دفعہ پھر اس مضمون کو مزید وضاحت سے بیان کروں گا۔مقامی زبان کا اپنا ایک حق ہے اور اس کی ایک اولیت ہے اور جس ملک میں بھی احمدیت پھیلتی ہے اسے مقامی زبان ہی میں پھیلنا ہو گا اس پہلو سے تمام احمدی بچوں کا فرض ہے کہ وہ مقامی زبان