خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 472
خطبات طاہر جلد ۱۲ 472 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء کی عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کرنے والے بنیں۔ایک موقع پر دجال کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ایسے دنوں کا بھی ذکر فرمایا جو سال کے برابر لمبے ہو سکتے ہیں اور وہ دجال کے زمانے میں آنے تھے۔اسی طرح ان دنوں کے ذکر میں فرمایا کہ بعض دن نسبتاً چھوٹے مہینوں تک ہوں گے بعض ہفتوں تک ہوں گے اور بعض سال کے برابر بھی ہوں گے اور ان انتہائی دنوں کے درمیان عام روز مرہ کے دن بھی ہوں گے یعنی دجال کے زمانے میں یہ باتیں بیک وقت نمودار ہوں گی۔جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کہیں سال کا دن بھی ہوگا۔کہیں چھ چھ مہینے کا دن بھی ہوگا کہیں تین مہینے کا کہیں ہفتے کا اور باقی دن برابر ہوں گے یعنی عام روز مرہ کے دن ہوں گے۔(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال) یہ پیشگوئی بہت ہی عظیم الشان پیشگوئی ہے کیونکہ تمام مذہبی کتب کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہیں اشارہ یا کنایہ بھی ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ دن چوبیس گھنٹے سے لمبے بھی ہو سکتے ہیں اور چودہ سوسال پہلے تو یہ تصور بالکل عنقا تھا۔اس کا وہم و گمان بھی کسی انسان کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا اور پھر یہ عجیب بات کہ بیک وقت کچھ دن لمبے اور کچھ دن چھوٹے ہوں گے یہ ایک حیرت انگیز معمہ تھا جو اس زمانے کے انسان سمجھ نہیں سکتے تھے ، نہ کسی کا تصور اس بات تک پہنچ سکتا تھا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کو خر دیتا اور ایسا ہی ہوا۔ایک لمبے عرصہ تک یہ پیشگوئی مسلمان مفکرین اور علماء کے لئے مبہم بنی رہی وہ سوچتے تو ہوں گے کہ اس کا کیا مطلب ہے لیکن سمجھ نہیں سکتے تھے کیونکہ یہ باتیں ابھی نہیں آئی تھیں۔پھر اس آخری زمانہ میں جب دجال کا یعنی مغربی عیسائی قوموں کا عروج ہوا ہے اور عیسائیت نے دنیا پر غلبہ پایا ہے تو اس دور میں یہ باتیں دریافت ہوئیں اور یہ شمالی پول اور جنوبی پول کے قصے ہمارے سامنے صلى الله آئے۔یہاں ایک سوال کا حل کرنا ضروری ہے کہ آنحضور ﷺ نے جہاں ایک سال کا دن فرمایا ہے اگر دن کی روشنی کے دن کو شمار کیا جائے تو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ اگر دن کو چوبیس گھنٹے کا دن تصور کیا جائے تو پھر یقیناً شمالی قطب میں بھی اور جنوبی قطب میں بھی ایک سال کا دن ضرور آتا ہے اور جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے کہ ایک دن میں پانچ نمازوں کا ذکر ملتا ہے۔اس سے قطعی طور پر پتا چل جاتا ہے کہ حضورا کرم کہ جب دن کی بات فرما ر ہے تھے تو جیسا کہ روز مرہ کا محاورہ ہے دن میں