خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 473 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 473

خطبات طاہر جلد ۱۲ 473 خطبه جمعه ۲۵ / جون ۱۹۹۳ء رات کو بھی شامل فرمالیا اور ایک دن سے مراد چوبیس گھنٹے کا دن ہے نہ کہ 12 گھنٹے کا دن۔جب یہ بات سمجھ آئے تو پھر یہ پیشگوئی بعینہ من و عن پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ قطب شمالی میں مسلسل 6 مہینے کی رات اور مسلسل چھ مہینے کا دن ہوتا ہے۔یعنی 6 مہینے روشنی کے اور 6 مہینے اندھیرے کے اور یہ دونوں مل کر ایک سال بن جاتا ہے۔پس قطب شمالی اور قطب جنوبی کو دیکھیں تو یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ من وعن پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ ایک سال کا دن قطب شمال پر چڑھتا ہے اور ایک سال ہی کا دن قطب جنوبی پر چڑھتا ہے اور درمیان کے علاقے تقسیم ہوئے ہیں۔پس یہ جو تین مہینے کا دن کا علاقہ ہے اس کا اصل معنی یہ ہے کہ یہ 6 مہینے کا دن ہے کیونکہ تین مہینے کا روشنی کا عرصہ ہے اور تین مہینے کا اندھیرے کا عرصہ ہے اور دن میں چونکہ روشنی اور اندھیرے کے عرصے اکٹھے شمار ہوتے ہیں اس لئے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم ایسے علاقہ میں آگئے ہیں جہاں 6 مہینے کا دن ہے اور 6 مہینے کی رات۔اس موقع پر جب حضرت اقدس محمد مصطفی امی یہ حیرت انگیز پیشگوئی فرمارہے تھے تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اگر ایک سال کا دن ہوگا تو ہم ایک سال میں پانچ نمازیں پڑھیں گے۔اس سے ہی پتا چلتا ہے کہ دن سے آنحضور ﷺ کی مراد صرف روشنی کا دن نہیں بلکہ چوبیس گھنٹے کا دن تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تم اندازہ لگایا کرو اور جس طرح عام علاقوں میں پانچ نمازیں پڑھتے ہو اسی طرح اس وقت کی نسبت کے ساتھ جو عام علاقوں میں مجرب وقت ہے تمہارے تجربہ میں آتا ہے اس کے مطابق چوبیس گھنٹے کے اندر پانچ پانچ نمازیں پڑھا کرو، یہ لفظ چوبیس گھنٹے تو استعمال نہیں ہوئے لیکن حدیث کے الفاظ سے بات بالکل واضح ہے کہ نمازوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔وہ چوبیس گھنٹے کے دن کے مطابق پڑھی جائیں گی اور ہر چوبیں گھنٹے کے بعد پانچ پانچ نمازیں اندازے سے مقرر کرنی ہوں گی۔اب وہ پیشگوئی جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اس کا ایک پہلو ایسا ہے جسے آج ہم خدا کے فضل کے ساتھ پورا کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان علاقوں میں مسلمانوں نے پہلے نمازیں پڑھی ہوں گی۔میں نہیں سمجھتا کہ اس بارہ میں کوئی بھی شک ہوگا کیونکہ Alaska کے شمال میں میں جانتا ہوں کہ بعض احمد ی گئے ہیں اور پانچ وقت کی نمازیں ایک دن کے اندازے سے انہوں نے وہاں پڑھی ہیں۔ہمارے ایک دوست حمید اللہ شاہ صاحب کینیڈا کے شمال