خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 43

خطبات طاہر جلد ۱۲ 43 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء فیصلہ کر لیں کہ ان کو ہندوستان سے ملیا میٹ کر دینا ہے تو نہیں کرسکیں گے یہ ناممکن ہے اتنی بڑی بڑی عظیم قو میں اس طرح مٹا نہیں کرتیں اس لئے آپ نے فرمایا کہ صلح کے ساتھ، محبت کے ساتھ ، انسانی قدروں کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھو تمہارا اپنا فائدہ ہے، ملک کا فائدہ ہو گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ نصیحت آج سے قریبا ۸۰ برس پہلے یا اس کے لگ بھگ ہوئی کیونکہ یہ آخری پیغام صلح تھا۔جس میں آپ نے یہ نصیحت فرمائی اور جو آپ کی وفات کے بعد رسالہ کی صورت میں شائع ہوا۔تو سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں تو نہیں مٹائے جاسکتے نہ انشاء اللہ مٹائے جاسکیں گے لیکن بوسنیا میں تو یہ خطرہ بھی لاحق ہو گیا ہے کہ پوری مسلمان قوم کو بوسنیا کے ملک سے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے اور یورپ میں لڑکی کے ایک کنارے کے علاوہ جو تنہا ایک اسلامی حکومت رہ گئی ہے اس کو یورپ کے نقشے سے مٹا دیا جائے۔لیکن یہاں بھی آپ اعداد و شمار کی صورت میں جو واقعات اخباروں میں پڑھتے ہیں وہ اور بات ہے اور جو قصے بھی بوسنین سناتے ہیں اپنی آنکھوں دیکھے حال بتاتے ہیں ان کو سننا بالکل ایک اور بات ہے۔سارے یورپ میں جماعت احمدیہ کا بوسنیا کے مہاجروں سے رابطہ ہے اور بڑھ رہا ہے اور اس قدر وہ پیار کے بھوکے ہیں کہ محض محبت کے ساتھ ان سے ملنے جانا ہی ان کے لئے ایک عجیب واقعہ ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ساری انسانیت کے دھتکارے ہوئے لوگ ہیں اور جو واقعات وہ سناتے ہیں اور جس طرح پورے خاندان کے خاندان ختم کئے گئے ہیں اور بعض انتہائی بہیمانہ حرکتیں ماؤں اور باپوں کے سامنے ان کی اولادوں سے کی گئیں وہ ایسی کہانیاں ہیں کہ ان کا کم سے کم میرے لئے کچھ دیرسننا بھی ناممکن ہے، پڑھنا بھی ناممکن ہے۔کچھ دیر میں پڑھتا ہوں اور اس کے بعد اعصاب پھتا جاتے ہیں۔ناممکن ہو جاتا ہے کہ مزید اس بات کو پڑھ سکوں یا جولوگ واقعات سناتے ہیں ان سے مزید سن سکوں ان کو میں روک دیتا ہوں لیکن ایک ایسی ویڈیو ملی ہے جس کی میں ان لوگوں سے اجازت لے رہا ہوں جن لوگوں نے وہ ویڈیو بنائی ہے اگر وہ ہمیں اجازت دیں تو ہم جماعت کے ذریعہ ساری دنیا میں تمام دنیا کے انسانوں کو وہ ویڈیو دکھائیں اور بتائیں کہ کس قدر خوفناک ظالمانہ کارروائیاں مسلمانوں کے خلاف روا رکھی جارہی ہیں اور یورپ صرف باتیں کر رہا ہے، امریکہ صرف زبانی ہمدردی کے قصے کر رہا ہے۔ایک طرف یہ عالم ہے دوسری طرف عراق پر جو گزر رہی ہے۔عراق کے خلاف نہایت