خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۱۲ 44 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء ذلت آمیز سلوک یو نائیٹڈ نیشنز کے نام پر بار بار ہورہا ہے۔اگر اس کا سب سے بڑا جرم قرار دیا جائے تو اس کا ایٹم بم بنانے کی کوشش کرنا ہے اور اسرائیل نے ایٹم بم کے اتنے ہتھیار جمع کر رکھے ہیں اور اتنے خوفناک ہیں کہ ایک وقت میں وہ روس کی عظیم طاقت کو چیلنج کر رہا تھا اور روس کو کہ رہا تھا کہ اگر تم نے ہمیں ترچھی آنکھ سے دیکھا تو تمہارے سارے بڑے شہر ہمارے نشانے پر ہیں، لیکن اس طرف سے آنکھیں بند ہیں۔اگر کہو کہ عراق نے اپنے علاقے کے باشندے مسلمانوں پر ظلم کئے ہیں ،شیعوں پر ظلم کئے ہیں یا کر دوں پر ظلم کئے ہیں تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ ان مسلمانوں کی تمہیں ایسی ہمددری ہوگئی جن کو مٹا کر ملیا میٹ کرنے کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔اگر کوئی ظلم کئے ہیں تو اس سے بہت زیادہ ظلم دوسری جگہوں پر ہر قوم اپنے ہم قوموں سے کر رہی ہے اور کرتی چلی جارہی ہے۔سارے عالمی نقشے پر نظر ڈال کر دیکھیں اس وقت، وقت نہیں ہے ،مگر میں ایک کے بعد دوسری مثال دے سکتا ہوں کہ ایک قوم اپنے ہم قوموں ، ایک ملک اپنے ہم وطنوں سے کیا سلوک کرتا ہے اگر خدا تعالیٰ نے امریکہ کو ساری دنیا کا تھانیدار بنایا ہے تو پھر ہر جگہ پہنچے لیکن بوسنیا ان کو دکھائی نہیں دے رہا، بوسنیا میں بھی تو مسلمان بستے ہیں یا ایک حصہ میں بستے تھے جہاں سے کلیہ نکالے جاچکے ہیں لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔بار بار جو عشق کو دتا ہے تو عراق کے شیعوں کا عشق کو دتا ہے جو عراق کے علاقے میں ہیں۔لیکن جو ترکی کے علاقے میں ہیں ان کا کوئی فکر نہیں حالانکہ میں نے خود یہاں برٹش ٹیلی ویژن پر ترکی کے تابع کردوں سے متعلق فلم دیکھی اس فلم کو دیکھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کیسے کیسے مظالم ان پر کئے گئے ہیں کہ ان کی تہذیب مٹانے کے لئے اور ان کی ایک الگ زندہ حقیقت کو ہمیشہ کے لئے ان کے ذہنوں سے محو کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اپنی زبان تک بولنے کی اجازت نہیں میں نہیں جانتا کہ وہ باتیں کس حد تک سچی ہیں لیکن مغربی ذرائع ابلاغ نے خود دنیا کو دکھائی ہیں۔وہاں بھی تو کرد بستے ہیں ایک کرد سے ایسی محبت اور دوسرے کرد سے ایسی دشمنی۔پھر یونائیٹڈ نیشنز کی خلاف ورزی کا الزام ہے اور بار بار مغرب میں ہر جگہ ٹیلی ویژن پر آج کل دکھایا جا رہا ہے کہ ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں یونائیٹڈ نیشنز کے وقار کوٹھوکر لگی ہے اتنا عظیم ادارہ جو اس شان کے ساتھ اب دوبارہ ابھرا ہے۔اگر اس کے ریزولیوشنز کی اس طرح بار بار تحقیر کی جائے تو اس کے وقار کو ٹھوکر لگے گی لیکن