خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد ۱۲ 42 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۹۳ء آنے شروع ہوئے ہیں۔اب ان کو اپنی للہی محبت ثابت کرنے کی خاطر ہر نیکی کے کام پر لاز ما پہنچنا ہوگا۔جمعہ سے شروع کریں اور پھر پانچ نمازوں پر مسجدوں میں حاضری دیں تب میرا سینہ ٹھنڈا ہوگا۔تب یہ ساری عالمگیر جماعت واقعہ للہی محبت کرنے والی جماعت شمار ہوگی۔یعنی خدا کے حضور ایک للہی محبت کرنے والی جماعت لکھی جائے گی۔میں جانتا ہوں انسانوں میں کمزوریاں ہیں مختلف قسم کے درجے ہیں اور نیکی ایک دم دل میں جڑ نہیں پکڑ جایا کرتی۔بیج اگر اخلاص کے ساتھ بویا جائے اور اس کی آبیاری کی جائے اور نیکی کے بیج کی آبیاری دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ ہوا کرتی ہے تو پھر نیکی بڑھتی ہے، پھلتی ہے، پھولتی ہے اور پھیلتی ہے اور درخت بنتی ہے جس کی شاخیں بعض دفعہ ایک ایک درخت کی شاخیں عالمگیر ہو جاتی ہیں تو یہ وہ بیج ہے جواب دلوں میں بوئے جار ہے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت ان کی آبیاری اپنی دعاؤں سے اور آنسوؤں بھری دعاؤں سے کرے گی۔اس کے بعد میں عالم اسلام کے لئے ایک تحریک کرنا چاہتا ہوں۔عالم اسلام پر بہت سخت دن ہیں اور ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت کھڑی ہو جاتی ہے۔ہندوستان پر نظر ڈالیں تو اس طرح ظالمانہ طور پر مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور گھروں سے بے گھر کئے جارہے ہیں۔ٹوٹے جارہے ہیں اور ہر طرح کے مصائب اور مظالم ان پر روا ر کھے جارہے ہیں۔ایسی دردناک کہانیاں ہیں جو اخباروں سے بہت زیادہ ان آنکھوں دیکھے حالات کی صورت میں مجھ تک پہنچ رہی ہیں۔جو احمدی خطوں میں بھیج رہے ہیں۔وہ روئیداد جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی کس طرح واقعات ہوئے کس طرح غریبوں کے بچے آگوں میں پھینکے گئے، کس طرح تلاش کر کر کے مسلمانوں کو مارا گیا، کس طرح ہندوستانی فوج اور پولیس نے کرفیو گا کرمسلمانوں کو نہتا کیا اور غیروں کو موقع دیا کہ وہ حملہ کریں اور گھروں کی نشاندھی کی گئی۔بہت ہی دردناک اور خطر ناک واقعات ہیں جن کو پڑھتے ہوئے روح پگھلتی اور آستانہ الوہیت پر پانی بن بن کر گرتی ہے اور کچھ پیش نہیں جاتی۔بے اختیاری کا عالم ہے، سوائے دعا کے اور کوئی صورت نہیں ہے کہ ہم ان بھائیوں کی کوئی مددکر سکیں پھر جب بوسنیا پر نظر پڑتی ہے تو اتنا دردناک منظر ہے کہ یہاں ہندوستان میں تو 11 کروڑ سے بھی زائد مسلمان ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا تھا کہ اگر سارے ہندوستان کے ہند ول کر بھی