خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد ۱۲ 448 خطبه جمعه ۱۱رجون ۱۹۹۳ء اس وقت میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس مضمون تک پہنچنے سے پہلے ہمیں ان حوالوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ جن میں ہمارا تشخص تاریخی لحاظ سے الہی کتب میں بیان کیا گیا ہے ہم کیا ہیں ہم سے کیا توقع رکھی جاتی ہے کس مقصد کے لئے یہ گزَرْعِ کا سلسلہ شروع ہوا جس کا مسیح نے ذکر کیا اور قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ وَ مَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعِ أَخْرَجَ شطه ان لوگوں کی مثال انجیل میں یوں بیان ہوئی ہے کہ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْعَهُ ایسی کھیتی کی طرح جس کی پتیاں باہر نکل آئیں اور زمیندار جانتے ہیں کہ شروع میں روئیدگی پیتوں کی شکل میں نکلتی ہے اَخْرَجَ شَطْۂ پھر وہ اس کو مضبوط کر دے فَاسْتَغْلَظَ پھر مضبوط ہو کر ایک قوت پیدا ہو جائے فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہ پھر وہ اپنے ڈنٹھل پر کھڑی ہو جائیں یعنی یہ اس کھیتی کی مثالیں ہیں جن کو بیج بونے والے ہوتے ہیں اور پھر اس طرح کھیتی کی روئیدگی کو دیکھتے اور اپنی آنکھوں کے سامنے بڑھتا پھولتا پھلتا ہوا د یکھتے ہیں اور مضبوط ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ بونے والوں کو بہت لطف آتا ہے لیکن جو انکار کرنے والے ہیں وہ ان کی یہ برکتیں دیکھ دیکھ کر جلتے ہیں اور انہیں بہت طیش آتا ہے۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ہونے والوں سے مراد خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے جس نے بویا ہے یہ کھیتی خدا ہی کے ہاتھ سے بوئی جاتی ہے مگر یہاں جو طرز بیان ہے اس میں خدا کے ہاتھ کا براہ راست ذکر نہیں بلکہ الزراع ہیں بہت سے بونے والے ہیں جو بوتے ہیں ۔ یہاں دراصل داعین الی اللہ کی ایک جماعت کا ذکر ہے جو کثرت کے ساتھ مختلف زمینوں میں بیچ پھینکتے چلے جاتے ہیں اور وہ بیج جب اچھی زمینوں پر پڑتا ہے تو پھر جس کیفیت کے ساتھ ، جس شان کے ساتھ وہ روئیدگی دکھاتا اور نشو و نما پاتا ہے اس کا یہ ذکر فرمایا گیا ہے۔ جب الزراع کے مضمون کو آپ پیش نظر رکھیں تو پھر حضرت مسیح نے جو تمثیلات بیان کی ہیں ان کا سمجھنا نسبتا آسان ہو جائے گا۔ ایک ہاتھ کا بیج کسی خاص کھیتی میں پڑتا ہے اور اگ جاتا ہے اگر وہ ہاتھ کسی ماہر کا ہاتھ ہو، ایسے شخص کا ہاتھ ہو جو اس مضمون کو سمجھتا ہو تو اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اُس پیج کو گندی زمینوں میں پھینک دے، اس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ اس پیج کو وہ جھاڑیوں میں پھینک دے، چٹانوں پر پھینک دے اس لئے یہاں خدا کا ہاتھ بیان نہیں فرمایا گیا، یہی حکمت اس کے پیش نظر ہے۔ مومنوں