خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 449

خطبات طاہر جلد ۱۲ 449 خطبہ جمعہ ۱۱/جون ۱۹۹۳ء میں کچھ سادہ ہیں، کچھ زیادہ ذہین ہیں، کچھ تجربہ کار ہیں اور کچھ نا تجربہ کار ہیں تبلیغ میں ان کے ساتھ مختلف لوگوں کا واسطہ روز مرہ پڑتا رہتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چٹیل زمینوں کے ساتھ ہی نبرد آزمائی کرتے ساری عمر گنوا دیتے ہیں۔بیج پھینکتے ہیں تو چٹیل زمینوں پر کچھ تھوڑ اسا اگتا بھی ہے لیکن مرجاتا ہے اسی طرح بعض ہیں جو ایسی جگہ بیج پھینکتے ہیں جہاں اردگرد خونخوار درندے ہیں دشمن ملاں موجود ہیں وہ تاک میں رہتے ہیں کہ ادھر بیچ پھینکنے والا پیٹھ موڑے تو وہ واپس آکر اس کھیتی کو برباد کر دیں۔ایسے لوگ بھی ہیں اور واقعہ ایسا ہوتا بھی ہے۔کچھ ایسے سمجھ دار بیج پھینکنے والے ہیں جو اچھی زمینوں کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر ان کی حفاظت کرتے ہیں، ان کی نگرانی کرتے ہیں ان کی کھیتیاں ہیں جو نشو ونما پاتی ہیں اور قرآن کریم نے دور آخر کی جو مثال دی ہے، وہ ایسے ہی لوگوں کی دی ہے حضرت مسیح نے تفصیل سے ان سب لوگوں کی مثال دی ہے کسی نے یہاں بیج پھینک دیا، کسی نے وہاں پھینک دیا، کسی کا بیچ چٹانوں پر ضائع ہو گیا یا کسی کے بیج کو جانور چگ گئے لیکن قرآن کریم نے اس تفصیل کے ساتھ اس مثال کو بیان فرما کر ان لوگوں کی مثال دی ہے جو حکمت کے ساتھ اچھی زمین پر بیج پھینکتے ہیں اور یہ شان محمد مصطفی ﷺ ہے جس کا ذکر چل رہا ہے فرمایا وَ الَّذِينَ مَعَةً صاحب علیسا حکمت لوگ ہیں۔صاحب عرفان لوگ ہیں وہ اپنے بیج کو ضائع نہیں کرتے۔ان کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ اچھی زمینوں کا انتخاب کریں اور پھر اس پیج کی حفاظت کریں۔اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے اگتا دیکھیں، نشو ونما پاتا دیکھیں۔اس کی ہریالی ان کی آنکھوں کو شاداب کرے اور دشمن غیظ و غضب میں مبتلا ہو مگر کچھ نہ کر سکے اس لئے جب میں مسیح کی تمثیلوں کے ساتھ قرآن کریم کی تمثیلات کا موازنہ کرتا ہوں تو بالکل کھلم کھلی بدیہی بات ہے کہ قرآن کریم نے اس مضمون کو بہت زیادہ آگے بڑھا دیا ہے اور اس مضمون میں ایک غیر معمولی شان پیدا کر دی ہے۔اب میں مسیح کے اس ذکر کو لیتا ہوں جس کے مقابل پر بعض اور آیات بھی آپ کے سامنے رکھوں گا جن میں یہ مضمون ایک اور شان کے ساتھ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔چونکہ مسیح کا تعلق دور اُخروی سے ہے۔قرآن کریم سے بھی ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے بھی ثابت ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے دور آخر پر آپ کے جس غلام نے ظاہر ہونا ہے اس کوشان مسیحی عطا ہوگی ، اس کو مسیح کا نام دیا گیا ہے اس لئے ان تمثیلات کے ساتھ ہمارا تعلق ضرور ہے اور وہ تمثیلات ہمیں