خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 439
خطبات طاہر جلد ۱۲ 439 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء د وصفات ہم میں رائج ہو جائیں۔اگر انسان معافی مانگنے سے حیاء محسوس کرے تو حقیقت میں ایک تکبر ہے اور جو متکبر ہو اس کا معافی مانگنا بھی بے معنی ہو جایا کرتا ہے۔جب وہ خدا سے معافی مانگتا ہے اور بندے سے نہیں مانگتا تو خدا سے معافی مانگنا بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ متکبر کی دعا خدا قبول نہیں کیا کرتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے بندوں پر رحم نہیں فرما تا میں اس پر رحم نہیں کرتا۔اس لئے معافی دینا بھی سیکھیں اور معافی دینا اگر سیکھنا ہے تو معافی مانگنا اس کا ایک لازمی جزو ہے کیونکہ معافی مانگے بغیر تکبر نہیں ٹوٹتے۔جب معافی مانگنے کا سلیقہ سیکھیں گے تو پھر معافی دینا ایک بہت ہی اہم خلق بن جائے گا اور خدا کا جو بندہ معافی مانگنا بھی جانتا ہو اور معافی دینا بھی جانتا ہو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مغفرت کا وہ سلوک فرمائے گا جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ کہ اللہ ہر قسم کے گناہ بخش دیتا ہے۔ہر گناہ کو بخش دیتا ہے اور وہ بہت ہی بخشش کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس ضمن میں میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی بعض نصیحتیں چنی ہیں۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔یہ حدیث مسلم، کتاب التوبہ باب فی سعتہ رحمتہ اللہ سے لی گئی ہے۔روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی سزا اور گرفت کا اندازہ ہو کہ کتنی سخت اور شدید ہے تو وہ جنت کی امید ہی نہ رکھے اور یہی سمجھے کہ اس گرفت اور سزا سے بچنا محال ہے اور اگر کافر کو یہاں مومن کو بدل کر کا فر فرمایا گیا ) اللہ تعالیٰ کے خزائن رحمت کا اندازہ ہو تو وہ اس کی جنت سے ناامید ہی نہ ہو اور یقین کرے کہ اتنی بڑی رحمت سے بھلا کون بدقسمت محروم رہ سکتا ہے۔یہاں مومن کی بجائے کافر کو بدل کر بہت ہی حکیمانہ بات فرمائی گئی ہے۔مومن بخشش کی امید رکھتا ہے اور اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ بے راہ رو ہو جاتا ہے اس کو بتایا گیا ہے کہ تم پکڑ پر نظر رکھو۔اگر تم صرف بخشش پر ہی نظر رکھو گے تو ہو سکتا ہے کہ تم سے ایسی گستاخیاں اور بداعمالیاں سرزد ہوں کہ تم بخشش کی حد سے ہی باہر نکل جاؤ۔کتنا حکیمانہ کلام ہے۔انسان کی روح حضور اکرم ﷺ کی نصیحتوں کو پڑھ کر عش عش کر اٹھتی ہے۔ایک ایک لفظ میں اور چھوٹی چھوٹی نصیحتوں میں حکمت کے خزانے بند کئے ہوئے ہوتے ہیں تو مومن کو فرمایا کہ تم خدا تعالیٰ کی پکڑ کی طرف بھی خیال رکھنا اور یاد رکھنا کہ اگر تمہیں پکڑ کی معرفت ہو جائے تو گناہ کی تمنا تمہارے دل سے نکل جائے گی اور کافر دنیا میں