خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد ۱۲ 438 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء بھی کھیلے تھے اس میں غلطی سے امیر صاحب کا ہاتھ ان کے ازار بند پر پڑ گیا یعنی اس حصے پر جہاں وہ باندھا گیا تھا تو انہوں نے فوراً وہ پوائنٹ چھوڑ دیا کہ یہی عقل کی بات تھی کیونکہ اگر اس وقت زور لگاتے تو جگ ہنسائی ہوئی تھی۔بہر حال ایک اور موقع پر بھی میں نے دیکھا کہ بیچارے کھلاڑی کا لباس تقریباً اُتر گیا تھا اور اس نے ہاتھ سے پکڑ کر اس کو سنبھالا۔تو یہ بات تھی جس پر میں وہاں ان سے ناراض ہوا کہ جب آپ کو سمجھا دیا گیا تھا تو پھر کیوں نہیں ایسا کیا؟ مجھے بتا دیتے کہ نہیں ہوسکتا۔ہم میچ کینسل کر دیتے۔کوئی ضروری تو نہیں کہ دنیا کو کبڈی بھی دکھائی جائے لیکن جب دکھائی جائے تو اسلامی روایات اور سلیقے کے مطابق دکھانی چاہئے۔یہ تکرار میں ناراضگی کے اظہار کے طور پر نہیں بلکہ جماعت کی تربیت کے لئے اس لئے کر رہا ہوں کہ ہمیں اپنی کھیلوں میں اپنی اعلیٰ روایات کو کبھی قربان نہیں کرنا چاہئے۔ثقافت کے نام پر بعض لوگ نہایت بیہودہ حرکتیں کر جاتے ہیں کہ جی یہ ثقافت ہے ثقافت نہیں جہالت ہے۔ثقافت وہاں تک ہے جہاں تک اسلام کی مخالف نہیں ہے اس کے بعد وہ ثقافت نہیں بلکہ جہالت بن جاتی ہے تو کھیلوں میں بھی وہاں تک کھیلیں ہیں جہاں تک اسلام کی واضح اخلاقی تعلیم کے مخالف نہ ہوں۔جہاں اس حد سے باہر قدم رکھا وہاں وہ کھیل نہیں رہتی بلکہ وہ ایک جہالت یا بغاوت ہو جاتی ہے۔تو میں ایک دفعہ پھر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہاں بات ختم ہوگئی۔ان کو میں نے معاف کر دیا انہوں نے شرمندگی کا اظہار کیا اور بات ختم ہوگئی کیونکہ وہ مخلص فدائی آدمی ہیں۔ایسے نہیں کہ ان سے کوئی لمبی ناراضگی رکھی جائے لیکن چونکہ یہ بات بھی مشتہر ہو گئی تھی اس لئے لوگ ان کے متعلق کہیں غلط تاثر نہ لے لیں۔ان کا مزاج ہرگز ایسا نہیں ہے کہ بات سنیں اور ان سنی کر دیں۔بس کوئی ہنگامہ زیادہ تھا۔بے شمار کام تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کسی کے سپر د کام کر بیٹھے ہیں اور نگرانی نہیں ہو سکی تو یہ تو تھے معافی کے قصے۔اب دعا یہ ہے کہ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور ہماری روزمرہ کی کمزوریوں سے صرف نظر فرمائے اور ہمیں خود بخشے کی عادت ڈالے اور اپنے رنجیدہ بھائی سے معافی مانگنے کی عادت ڈالے۔ہماری جماعت میں اگر یہ دو باتیں قائم ہو جائیں تو اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 11) کا مضمون صادق آجائے گا۔یقیناً ہم بہت عظیم اخوت کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں اگر یہ